ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابی ریلی میں وینزویلا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بات کہی!
ٹرمپ نے وینزویلا کے متعلق کہا کہ ’’شاید جلد ہی یہ امریکہ کی خوشحال 51ویں ریاست بن جائے۔ یہ ممکن ہے۔ آئیے، اسے 51ویں ریاست بناتے ہیں۔ پھر یہاں صدر کے بجائے گورنر کے انتخاب ہوں گے۔‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وینزویلا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بات کہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے یہ ایک خوشحال ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے وینزویلا سے آئے 10 لاکھ بیرل تیل کو امریکہ کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس پر امریکی ٹیکس دہندگان کو کوئی خرچ نہیں کرنا پڑا۔ ٹرمپ نے منگل (27 اکتوبر) کو ٹیکساس کی کارپس کرسٹی بندرگاہ پر ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک خوشحال ملک بنے گا اور کون جانتا ہے، شاید جلد ہی یہ امریکہ کی خوشحال 51ویں ریاست بن جائے۔ یہ ممکن ہے۔ آئیے، اسے 51ویں ریاست بناتے ہیں۔ پھر یہاں صدر کے بجائے گورنر کے انتخاب ہوں گے۔‘‘
قریب کھڑے ایک جہاز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’اس میں وینزویلا سے لایا گیا 10 لاکھ بیرل تیل ہے اور امریکہ تاریخ کی سب سے بڑی تیل کی کامیابی کا جشن منا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حالیہ تنازعہ میں کامیابی کے بعد یہ تیل امریکی ٹیکس دہندگان پر کوئی خرچ ڈالے بغیر امریکہ کو فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے اس سے چند گھنٹے قبل جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے کہا کہ ’’امریکہ نے وینزویلا پر کامیابی کے ساتھ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے تحفے کے طور پر 10 لاکھ بیرل تیل بھیجا گیا ہے۔‘‘
ریلی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ٹرمپ کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دنیا کے عظیم ترین ملک امریکہ کے لیے کام کرنا اعزاز کی بات ہے۔‘‘ اسٹیج پر روبیو کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے مذاق میں کہا کہ ’’انہیں کیوبا میں اتار دیں گے اور یہ تقریباً 15 منٹ میں وہاں کا معاملہ حل کر دیں گے۔‘‘ ایران کے ساتھ جنگ کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے یہ جنگ شروع نہیں کی۔ ان کے مطابق ایران 1979 سے امریکہ کے خلاف جنگ جیسی کارروائیاں کرتا رہا ہے اور اس نے کئی امریکی شہریوں کی جان لی ہے۔
ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’پہلے ہی اندازہ تھا کہ تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور سوچا تھا کہ یہ 2 سے 3 گنا تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے باوجود میں وہ کرنے کے لیے تیار تھا۔‘‘ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ صورتحال جلد ختم ہو جائے گی۔ امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’موجودوہ حالات سے امریکہ کو کافی اقتصادی فائدہ ہو رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ٹرمپ ٹیکساس میں ریپبلکن رہنماؤں کی حمایت میں انتخابی مہم چلانے پہنچے تھے۔ انہوں نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخاب سے قبل ریاست کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن اور گورنر گریگ ایبٹ کی حمایت میں ریلی کی۔ اس کے بعد وہ دوسری ریلی کے لیے لباک روانہ ہو گئے۔ قابل ذکر ہے کہ رواں سال جنوری میں امریکی فوج نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد ملک کی عبوری حکومت نے واشنگٹن کے ساتھ تیل سے متعلق معاہدے کیے ہیں۔
