ایسڈ کی کھلے عام فروخت پر سپریم کورٹ سخت، مرکزی حکومت سے طلب کیا جواب

سپریم کورٹ نے ایسڈ حملوں کے واقعات پر مرکزی حکومت کے تئیں ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسڈ کی غیر قانونی فروخت روکنے کے لیے بنائی گئی اس کی رہنما ہدایات ناکام رہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i

سپریم کورٹ نے منگل (27 اکتوبر) کو ملک بھر میں ایسڈ حملوں کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ عدالت نے کہا کہ یہ صورتحال پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسڈ کی فروخت پر پابندی کو یقینی بنائے۔ عدالت نے کہا کہ محض ہمدردانہ اور جذباتی زبان میں ایسڈ کی فروخت پر پابندی سے متعلق سرکلر جاری کرنے سے مقصد پورا نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ سبھی ریاستیں ایسڈ کی فروخت پر پابندی سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد کریں۔

عدالت نے مرکزی حکومت کو ایسڈ کی فروخت کو ضابطے کے تحت لانے کے معاملے پر ایک تفصیلی تعمیلی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ بازاروں میں ایسڈ کی آسانی سے دستیابی سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کے مقصد کو ہی ناکام بنا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے ایسڈ حملوں کے واقعات پر مرکزی حکومت کے تئیں ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسڈ کی غیر قانونی فروخت روکنے کے لیے بنائی گئی اس کی رہنما ہدایات ناکام رہی ہیں۔ ایسڈ حملوں کے متاثرین کی بازآبادکاری اور ایسڈ کی فروخت کو ضابطے کے تحت لانے سے متعلق عرضیوں پر سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا۔


ایسڈ حملوں کا شکار خواتین کی جانب سے سخت ضابطے اور بہتر بازآبادکاری کا مطالبہ کرتے ہوئے دائر کی گئی عرضیوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ بازاروں میں ایسڈ کی آسانی سے دستیابی ہمارے احکامات کے بنیادی مقصد کو ہی ختم کر رہی ہے۔ اس سمت میں کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ تعمیلی رپورٹ داخل کریں۔ عدالت نے اس بات پر غور کیا کہ 2013 اور 2015 میں اس کی جانب سے دی گئی ہدایات کے باوجود ایسڈ اب بھی کھلے عام دستیاب ہے۔ ان ہدایات میں ایسڈ کی فروخت کو ضابطے کے تحت لانے، تصویر والے شناختی کارڈ اور پتے کا ثبوت طلب کرنے، ایسڈ خریدنے کی وجہ بتانے اور نابالغوں کو اس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے کئی بار مشاورتی ہدایات جاری کی ہیں اور ’ماڈل رولز‘ بھی بھیجے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستوں کی ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ مرکزی حکومت سخت سزاؤں کی دفعات کے ساتھ نئی رہنما ہدایات لانے پر غور کرے گی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو 4 ہفتوں کے اندر ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس میں ریاست وار اعداد و شمار ہونے چاہئیں، مثلاً لائسنس یافتہ فروخت کنندگان کی تعداد کتنی ہے، کتنی بار معائنہ کیا گیا، غیر قانونی فروخت کے معاملے میں کتنی ایف آئی آر درج کی گئیں اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔


علاوہ عدالت نے متاثرین کو دیے گئے معاوضے، ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 357C کے تحت مفت علاج کی سہولت اور ان کی تعلیم و روزگار کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی معلومات طلب کیں۔ عرضی گزاروں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے مفت علاج سے متعلق احکامات کے باوجود متاثرین کو معاوضہ ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے اور کئی معاملات میں انہیں علاج فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ باعزت زندگی گزارنے کے حق میں متاثرین کی مناسب بازآبادکاری بھی شامل ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 3 دسمبر کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔