
تصویر: سوشل میڈیا
مشاعروں میں غزل کے پاکیزہ لہجے کے شاعراور رامپوراسکول کی پہچان طاہرفراز کا آج انتقالِ ہوگیا۔ اتوار کو جیسے ہی عالمی شہرت یافتہ ممتاز شاعر طاہر فراز کے انتقال کی خبر عام ہوئی، ادبی دنیا میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ ذرائع کے مطابق طاہرفراز گھریلو تقریب میں شرکت کے لئے ممبئی گئے ہوئے تھے جہاں اتوار کی صبح دل کا دورہ پڑا اورداعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
Published: undefined
آج صبح اولین ساعتوں میں عالمی شہرت یافتہ شاعر طاہر فراز کےانتقال کی خبرنےادب کے ساتھ ساتھ سماجی حلقوں کو بھی مغموم کردیا۔ مترنم لہجے کے البیلے شاعر طاہر فراز بظاہرمشاعروں کے مقبول ترین شاعرتھے لیکن ان کا شعری آہنگ آج کے مشاعروں سے بہت بلند تھا۔ ان کے شعری مجموعے’ کشکول‘ کو بڑی پزیرائی حاصل ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر چاہنے والوں کی طرف سے تعزیتی پیغامات کا سیلاب آگیا جس میں ہر کوئی مغموم اندازسے اپنے خیالات کااظہارکررہا ہے۔
Published: undefined
بتادیں کہ طاہر فراز دبستان رامپور کے نمائندہ شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 29 جون 1953 کو بدایوں کی اسی سر زمین پر ہوئی جو شاعری کے لیے بڑی زرخیز مانی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنا شعری سفر بڑے اعتماد اور وقار کے ساتھ طےکیا تھا۔ طاہرفراز نے عروس البلاد ممبئی میں آخری سانس لی جہاں وہ ایک گھریلو تقریب میں شرکت کرنے گئے تھے۔ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پرادب نوازافراد نے اپنے خیالات ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ طاہرفرازکے لب ولہجہ میں جو سادگی تھی وہی ان کی شخصیت کا پرتو بھی تھا۔ طاہرفراز مشاعروں میں بڑے پرسوزترنم سے اپنا کلام سناتے تھے اور جب وہ گویا ہوتے تو سناٹا چھا جاتا تھا۔ ان کی غزلیں تہذیب کا آئینہ ہوتی تھیں جس میں درد بھی تھا اورسچائی بھی۔ ان کی آواز میں ایک کشش اور کاٹ تھی۔ تادم تحریر تدفین کی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
Published: undefined