قومی خبریں

سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ کے ججوں نے ’انسداد بدعنوانی قانون‘ پر الگ الگ دیا فیصلہ، اب بڑی بنچ کرے گی سماعت

جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 17اے غیر آئینی ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے، جبکہ جسٹس کے وی وشوناتھن نے اس التزام کو آئینی قرار دیا اور ایماندار افسران کے تحفظ پر زور دیا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ کی 2 رکنی بنچ میں شامل ججوں نے انسداد بدعنوانی قانون 2018 سے متعلق ایک التزام کے آئینی جواز پر الگ الگ فیصلہ سنایا ہے۔ اس التزام کے مطابق بدعنوانی کی صورت میں کسی سرکاری ملازم کے خلاف تحقیقات شروع کرنے سے قبل منظوری لینا ضروری ہے۔ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 سے منسلک اس معاملہ میں جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ ’’انسداد بدعنوانی کی دفعہ 17اے غیر آئینی ہے، اسے منسوخ کیا جانا چاہیے۔‘‘ پیشگی منظور لازمی ہونے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ ’’یہ شرط انسداد بدعنوانی ایکٹ کی روح کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ قانون کی ایسی دفعات بدعنوان لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ مقدمہ کی سماعت کر رہی ڈویژن بنچ میں شامل ایک دیگر جسٹس نے قانون کی اس دفعہ کو آئینی قرار دیا۔ جسٹس کے وی وشوناتھن نے اپنے حصے کے فیصلے میں لکھا کہ ’’انسداد بدعنوانی کی دفعہ 17اے آئینی التزام ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’قانون کے اس التزام سے ایماندار افسران کی حفاظت ہوتی ہے، جس پر زور دیا جانا ضروری ہے۔‘‘

Published: undefined

ایک طرف جہاں جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 17اے غیر آئینی ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے، تو وہیں جسٹس کے وی وشوناتھن نے اس التزام کو آئینی قرار دیا اور ایماندار افسران کے تحفظ پر زور دیا۔ ایسے میں اب اس معاملہ کو جیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کے سامنے رکھا جائے گا، تاکہ حتمی فیصلے کے لیے معاملے کی دوبارہ سماعت کے لیے ایک بڑی بنچ تشکیل دی جا سکے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 17اے، جسے جولائی 2018 میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کی گئی سفارشوں کے لیے مجاز اتھارٹی سے پہلے منظوری لیے بغیر کسی بھی پوچھ تاچھ یا تفتیش پر روک لگاتی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصہ این جی او ’سنٹر فار پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن‘ (سی پی آئی ایل) کے ذریعہ انسداد بدعنوانی ایکٹ کی ترمیم شدہ دفعہ 17اے کے جواز کے خلاف دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی پر آیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined