
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، تصویر آئی اے این ایس
عزت مآب صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب لوک سبھا میں پی ایم مودی کو 4 فروری کی شام 5 بجے ہی دینا تھا۔ ہنگامہ کی وجہ سے کل لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی ہو گئی، اس لیے لوگ امید کر رہے تھے کہ 5 فروری کو پی ایم مودی اپنی بات ایوانِ زیریں میں رکھیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پی ایم مودی کی تقریر کے بغیر ہی لوک سبھا میں شکریہ کی تحریک منظور کر لی گئی۔ اس معاملہ میں کانگریس کے کئی سرکردہ لیڈران حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ نریندر مودی ’خوفزدہ‘ تھے، اس لیے لوک سبھا میں قدم نہیں رکھا۔
Published: undefined
اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر ایوانِ زیریں میں پی ایم مودی کی تقریر نہ ہونے پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے۔ اس خط کو انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے، ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’’کل لوک سبھا میں معزز صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے جواب سے وزیر اعظم کے گریز کرنے پر پورا ملک حیران اور ششدر رہ گیا۔ آج میں نے ایوان کے طریقۂ کار اور رائج روایات کی خلاف ورزی کے بارے میں معزز لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھا ہے۔‘‘
Published: undefined
اس خط میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے مخاطب ہوتے ہوئے وینوگوپال نے لکھا ہے کہ ’’میں آپ کی توجہ ایوان میں 5 فروری کو شکریہ کی تحریک پر بحث کے اختتام کے دوران پیش آنے والی سنگین ضابطہ جاتی بے قاعدگیوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ ضابطہ کے رول-20 کے مطابق شکریہ کی تحریک پر بحث کے اختتام پر معزز وزیر اعظم کے لیے حکومت کا موقف واضح کرنا لازمی ہے۔ اگر کسی وجہ سے معزز وزیر اعظم ایسا کرنے سے قاصر ہوں یا آمادہ نہ ہوں تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایوان کو اس بابت مطلع کریں۔ موجودہ معاملے میں نہ تو معزز وزیر اعظم نے بحث کا جواب دیا اور نہ ہی ایوان کو ان کی عدم دستیابی سے آگاہ کیا گیا۔ یہ واضح طور پر رول-20 کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’یہ بات ظاہر ہے کہ عموماً کسی بھی بحث کا اختتام متعلقہ وزیر کے جواب کے ساتھ ہوتا ہے۔ غیر معمولی حالات میں، اگر ایوان بغیر ایسے جواب کے بحث ختم کرنا چاہے تو رول-362 کے تحت کسی رکن کو تحریک پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ صرف اسی صورت میں، جب معزز اسپیکر ایسی تحریک کو ایوان کے سامنے رکھیں اور ایوان اسے منظور کرے، بحث کو ختم شدہ مانا جا سکتا ہے، اور اصل تحریک کو رائے دہی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘
Published: undefined
اس خط میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے لکھا ہے کہ ’’موجودہ معاملہ میں رول-362 کے تحت کوئی ایسی تحریک پیش نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود تقریباً 12 بجے شکریہ کی تحریک کو اچانک ایوان کے سامنے رکھ دیا گیا۔ یعنی مقررہ طریقۂ کار اختیار کیے بغیر ہی بحث کا اختتام کر دیا گیا۔ لہٰذا یہ کارروائی رول-362 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔‘‘ ان باتوں کو رکھنے کے بعد انھوں نے لوک سبھا اسپیکر سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ’’رول-20 کے تحت وزیر اعظم کے جواب سے متعلق اختیار کیے گئے طریقۂ کار اور رول-362 کے تحت شکریہ کی تحریک پر بحث کے اختتام کے بارے میں ایوان کو آگاہ کریں۔‘‘
Published: undefined
کے سی وینوگوپال نے اس خط میں عاجزانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اسپیکر اوم برلا سے کہا ہے کہ ’’آپ ایوان کے ضابطوں کے نگہبان ہیں اور ہم سب پر لازم ہے کہ اصول و ضوابط کی پابندی کریں۔ یہ ایوان صرف انہی ضابطوں کی بنیاد پر چل سکتا ہے جو دستور کے آرٹیکل 118 کے تحت وضع کیے گئے ہیں۔ آرٹیکل 105 ہمیں اظہار خیال کی آزادی دیتا ہے اور یہ اسپیکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اراکین پارلیمنٹ ایوان میں گفتگو کے دوران اس آزادی سے بھرپور استفادہ کریں۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’جہاں تک آج کی کارروائی کا تعلق ہے، ایوان اس بات سے ناواقف ہے کہ وزیر اعظم کا جواب کیسے نظر انداز کر دیا گیا اور آپ نے فوری طور پر شکریہ کی تحریک کو پیش کر دیا۔ ہم ایوان کے واضح طور پر طے شدہ قواعد سے اس انحراف پر حیران ہیں۔ رول-20 وزیر اعظم سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایوان کے سامنے ’حکومت کا موقف واضح کریں‘، جو دستور کے آرٹیکل 75(3) سے ماخوذ ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔‘‘
Published: undefined
خط کے آخر میں کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے درخواست کی ہے کہ وہ شکریہ کی تحریک پر بحث کے حوالہ سے پی ایم مودی کے جواب اور بحث کے اختتام سے متعلق اپنی جانب سے اختیار کیے گئے طریقۂ کار سے ایوان کو آگاہ کریں۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ متعلقہ ضابطہ کا مناسب تجزیہ اور اس سلسلے میں اختیار کیے گئے طریقۂ کار کی وضاحت ایوان کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined