
سیرپ، علامتی تصویر آئی اے این ایس
مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کئی بچوں کی موت مبینہ طور پر ’کولڈرف‘ اور ’نیکسٹراس ڈی ایس‘ کف سیرپ پینے کی وجہ سے ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ کف سیرپ پر پابندی عائد تھی، پھر بھی سرکاری اسپتالوں میں بلا روک ٹوک یہ دوائیں ’وزیر اعلیٰ مفت دوا منصوبہ‘ کے تحت تقسیم ہو رہی تھیں۔ اب اس معاملے میں کانگریس نے بی جے پی پر زوردار حملہ کیا ہے۔
Published: undefined
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’نیوز 18‘ کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں راجستھان کے سیکر اور کچھ دیگر علاقوں میں مبینہ طور پر ایک خاص کف سیرپ پینے سے بچوں کی موت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ سیکر کے متاثرہ کنبہ کا دعویٰ ہے کہ بچے کو کھانسی تھی اور سرکاری اسپتال سے مفت میں ملی دوا (کف سیرپ) پلانے کے بعد رات میں بچہ سویا تو صبح تک وہ مر چکا تھا۔ اس ویڈیو کے کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے ’’راجستھان میں کف سیرپ پینے سے 3 بچوں کی موت ہو گئی ہے۔ کئی بچوں کی کڈنی فیل ہو گئی۔ اس معاملے میں حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ جس کف سیرپ ’ڈیکسٹرومیتھورفون ہائیڈروبرومائیڈ‘ سے بچوں کی جان چلی گئی، وہ بلیک لسٹیڈ تھی۔‘‘
Published: undefined
کانگریس نے اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی ہے کہ کف سیرپ بنانے والی کمپنی کیسنز فارما پر فرضی دوائیں بنانے کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی اس مہلک کف سیرپ کو راجستھان کے سرکاری اسپتالوں میں ’وزیر اعلیٰ مفت دوا منصوبہ‘ کے تحت بلا روک ٹوک تقسیم کیا جا رہا تھا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ راجستھان کے علاوہ بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش میں بھی ’کولڈرف‘ اور ’نیکسٹراس ڈی ایس‘ کف سیرپ پینے سے 6 بچوں کی موت ہو چکی ہے اور کئی کی کڈنی فیل ہو گئی۔
Published: undefined
کانگریس نے بی جے پی حکمراں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں پیش آئے ان معاملوں کے بعد بی جے پی کے سامنے 3 تلخ سوالات رکھ دیے ہیں، جن کے جواب ہنوز سامنے نہیں آئے ہیں۔ وہ سوالات ہیں:
جب کیسنز فارما کی دوائیں ٹیسٹ میں فیل ہو چکی تھیں اور ان پر پابندی عائد کی گئی تھی تو اس فرضی کمپنی کو دوا تقسیم کرنے کا کام کیوں دیا گیا؟
یہ بلیک لسٹیڈ کف سیرپ راجستھان کے سرکاری اسپتالوں تک کیسے پہنچی؟
بی جے پی حکومت بچوں اور لوگوں کی جان سے کھلواڑ کیوں کر رہی ہے؟
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined