قومی خبریں

بی جے پی نے گرگٹ کو بھی ایک رَنگ سکھا دیا، جنھیں چین کو ’لال آنکھیں‘ دکھانی تھیں وہ لال قالین بچھا رہے: کانگریس

پون کھیڑا نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی نے گرگٹ کو بھی ایک رنگ سکھا دیا ہے، جنہیں چین کو لال آنکھیں دکھانی تھیں ان کے لیے بی جے پی نے لال قالین بچھا دی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>گرافکس ’ایکس‘&nbsp;@INCIndia</p></div>

گرافکس ’ایکس‘ @INCIndia

 

بی جے پی ہیڈکوارٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی خفیہ میٹنگ پر کانگریس نے شدید حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے منگل کو پریس کانفرنس کر بی جے پی-سی پی سی میٹنگ کے فوراً بعد چین کی جانب سے کشمیر کی شکسگام وادی پر دعویٰ کیے جانے کے متعلق سوال اٹھایا۔ چین معاملے پر بی جے پی کے دوہرے رویے کو بے نقاب کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ ’’ملک کو یہ جاننے کا حق ہے کہ بی جے پی اور چین کی حکمراں جماعت کے درمیان بند کمروں میں ہوئی میٹنگوں میں کیا بات چیت ہوئی۔‘‘

Published: undefined

کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا اینڈ پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے ویڈیو دکھاتے ہوئے طنز کسا کہ ’’بی جے پی نے گرگٹ کو بھی ایک رنگ سکھا دیا ہے، جنہیں چین کو لال آنکھیں دکھانی تھیں ان کے لیے بی جے پی نے لال قالین بچھا دی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نے چین کی پارٹی سی پی سی سے میٹنگ کی ہے۔ یہ جب اقتدار میں نہیں تھے، تب بھی چین جا کر ملتے تھے، آر ایس ایس والے ٹریننگ لیتے تھے۔ ہمیں دقت نہیں ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی کسی دیگر ملک کی سیاسی پارٹی سے ملے یا بات چیت کرے۔ لیکن ہمیں دقت ہے بی جے پی کے دوہرے رویہ سے، عیاری اور مکاری سے۔ بی جے پی سالوں تک چیختی رہی کہ کانگریس نے ’ایم او یو‘ پر دستخط کر دیا ہے اور اب یہ خود میٹنگ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں دقت بی جے پی کی نیت سے ہے، کیونکہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ان میٹنگوں کے بعد ملک کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے چین کے تئیں ’سرنڈر کرنے کی پالیسی‘ اپنائی ہے۔ حکومت کا دوہرا رویہ اور خاموشی نہ صرف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو کمزور کر رہی ہے بلکہ قومی مفادات سے بھی سنگین سمجھوتہ کر رہی ہے۔ انہوں نے حالیہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’پیر کو بی جے پی ہیڈکوارٹر میں چینی کمیونسٹ پارٹی اور بی جے پی لیڈران کی میٹنگ ہوئی تھی اور اس کے کچھ گھنٹوں بعد چین نے کشمیر کی شکسگام وادی پر اپنا دعویٰ پیش کر  دیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایک طرف مودی حکومت کے ذریعہ عوام سے چینی سامان کا بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے، دوسری طرف چینی وفد کے لیے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ریڈ کارپیٹ بچھایا جاتا ہے۔ چینی کمپنیوں کو ہندوستانی میں سرمایہ کاری، زمین اور ٹھیکے دیے جا رہے ہیں۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہندوستان میں چینی سامان کا سیلاب آ گیا ہے، لیکن حکومت اسے روکنے کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ چین نے ’ریئر ارتھ‘ (نایاب ارضی عناصر) اور فرٹیلائیزر (کھاد) پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر ہندوستانی کسانوں کو نقصان پہنچایا، جس پر مودی حکومت خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو وہاں اسکولوں میں چینی زبان سیکھنے کی وکالت کرتے تھے۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستان-پاکستان کے درمیان جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے جیسے دعوے اب چین بھی کر رہا ہے۔ چین پینگونگ تسو جھیل کے راستے ملٹری پل اور برہمپتر ندی کے پاس ڈیم بنا رہا ہے۔ چین نے کئی بار ڈوکلام، سلی گوڑی کوریڈور، شکسگام سے لے کر اروناچل پردیش تک ہندوستان کے ساتھ ناپاک حرکت کی۔ لیکن مودی حکومت خاموش ہے۔ ہندوستان کی سرحدوں کے پاس چین انفراسٹرکچر بنا رہا ہے اور مودی حکومت چینی مزدوروں کو ویزا دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ گلوان میں 20 بہادر فوجیوں کی شہادت کے بعد وزیر اعظم مودی نے چین کو کلین چٹ دے کر پوری دنیا میں ہندوستان کی پوزیشن کو کمزور کر دیا تھا۔

Published: undefined

کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ بی جے پی-آر ایس ایس واضح کریں کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ان کی خفیہ میٹنگ کا ایجنڈا کیا ہے؟ کیا بند دروازوں کی ان میٹنگوں میں چینی تجاوزات سے متعلق کوئی بات ہوئی؟ انہوں نے آگے سوال کیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران چین کے ذریعہ پاکستان کو دی گئی فوجی مدد پر بی جے پی نے سوال کیوں نہیں پوچھا؟ جب چین اروناچل پردیش کے شہریوں کو حراست میں لیتا ہے اور ہندوستانی گاؤں کے نام بدلتا ہے، تب وزیر اعظم خاموش کیوں رہتے ہیں؟ پی ایم کیئر فنڈ میں چین کی ان کمپنیوں سے پیسہ کیوں لیا گیا جو بلیک لسٹڈ ہیں؟ پون کھیڑا نے یہ بھی کہا کہ ملک ایک جھکا ہوا وزیر اعظم کبھی قبول نہیں کرے گا، جو دشمن کے سامنے سر بسجود ہو جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ ان بند کمروں کی میٹنگوں میں ہندوستان کے کتنے مفادات کا سمجھوتہ کیا گیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined

,
  • کانگریس کے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ نے پکڑی رفتار، جے رام رمیش کی لوگوں سے تحریک میں شامل ہونے کی اپیل

  • ,
  • وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن پر یوروپ کی خاموشی خطرناک... اشوک سوین