ہندوستان میں 44 فیصد گاڑیاں بغیر انشورنس کے سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، حکومت نے راجیہ سبھا میں دی جانکاری

’موٹر وہیکل ایکٹ 1988‘ کے تحت عوامی مقامات پر چلنے والی ہر گاڑی کے لیے تھرڈ-پارٹی انشورنس کا ہونا لازمی ہے۔ قانون کی دفعہ 146 کے تحت یہ اصول نافذ کیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>دہلی کی سڑکوں پر گاڑیاں / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان میں بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں سڑکوں پر چل رہی ہیں جن کا انشورنس نہیں کرایا گیا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چل رہی تقریباً 44 فیصد گاڑیوں کے پاس کوئی انشورنس کور نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقریباً ہر 2 میں سے ایک چار پہیہ یا دو پہیہ گاڑی بغیر انشورنس کے سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ یہ حقیقت پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے سامنے آئی ہے، جس نے سڑک کی حفاظت اور قوانین پر عمل کرنے کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

یہ اعداد و شمار راجیہ سبھا میں اٹھائے گئے ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔ راجیہ سبھا رکن کے آر سریش ریڈی نے بغیر انشورنس والی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات اور متاثرین کو ملنے والے معاوضے کے متعلق سوال پوچھا تھا۔ اس کے جواب میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار ’واہَن‘ ڈیٹا بیس پر مبنی ہیں۔ اس میں 6 مارچ 2026 تک ملک میں رجسٹرڈ اور فعال گاڑیوں کی معلومات شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور فٹنس کی صورت حال کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔


واضح رہے کہ موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے تحت عوامی مقامات پر چلنے والی ہر گاڑی کے لیے تھرڈ-پارٹی انشورنس کا ہونا لازمی ہے۔ قانون کی دفعہ 146 کے تحت یہ اصول نافذ کیا گیا ہے، جبکہ دفعہ 196 میں اس کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سزا کے التزامات موجود ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں گاڑیوں کے مالکان اس قانون پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے سڑک حادثات کے معاملات میں متاثرین کو معاوضہ ملنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کئی بار مشورہ دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ریاستوں کو قوانین کو سختی سے نافذ کرنا چاہیے اور لوگوں کو انشورنس کی اہمیت سے متعلق آگاہ کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ویریفیکیشن جیسی ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا جا رہا ہے تاکہ بغیر انشورنس والی گاڑیوں کی شناخت آسانی سے ہو سکے۔


حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بغیر انشورنس والی گاڑیوں سے ہونے والے حادثات کے متاثرین کے لیے امداد کے التزامات موجود ہیں۔ موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 164 اور 166 کے تحت متاثرین معاوضے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ موٹر وہیکل ایکسیڈنٹ فنڈ کے ذریعے بھی ’ہِٹ اینڈ رن‘ اور بغیر انشورنس والے معاملات میں متاثرین کی مدد کی جاتی ہے، جس سے علاج اور معاوضہ فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔