’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟‘ بی جے پی-آر ایس ایس لیڈران کی کمیونسٹ پارٹی آف چین کے نمائندہ وفد سے ملاقات پر کانگریس کا سوال

سپریا شرینیت نے کہا کہ بی جے پی لیڈران اور چین کی کمیونسٹ پارٹی لیڈران کے درمیان میٹنگ ہو رہی ہے، حالانکہ آپریشن سندور میں چین نے پاکستان کا ساتھ دیا، گلوان میں ہمارے جانبازوں کی شہادت ہوئی۔

<div class="paragraphs"><p>کمیونسٹ پارٹی آف چین کے نمائندہ وفد کے ساتھ بی جے پی لیڈران کی میٹنگ کا منظر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’کمیونسٹ پارٹی آف چین‘ (سی پی سی) کا ایک نمائندہ وفد دہلی کے دورہ پر آیا ہوا ہے۔ پیر کے روز وہ بی جے پی دفتر پہنچا اور آج (13 جنوری) اس وفد نے آر ایس ایس لیڈر دتاترے ہوسبولے سے ملاقات کی۔ اس معاملے میں کانگریس حملہ آور دکھائی دے رہی ہے اور بی جے پی-آر ایس ایس لیڈران کی چینی پارٹی کے وفد سے ملاقات پر سوال اٹھا رہی ہے۔ پارٹی ترجمان سپریا شرینیت نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟‘

سپریا شرینیت نے آج اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر 2 تصویریں شیئر کی ہیں جو کہ بی جے پی دفتر کی ہے۔ تصویر میں بی جے پی لیڈران سی پی سی نمائندہ وفد کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔ سپریا کا کہنا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے وقت چین نے ہی پاکستان کا ساتھ دیا تھا، گلوان میں ہمارے جانبازوں کی شہادت ہوئی اور چین لداخ میں کچھ مقامات پر قبضہ کیے بیٹھا ہے۔ اروناچل میں بھی چین ایک گاؤں بسا رہا ہے، پھر اس طرح کا دوستانہ ماحول کیوں بنایا ہوا ہے۔ سپریا نے سوال کیا ہے کہ ’’بی جے پی نے ملک سے غداری کیوں کی؟ بی جے پی اور چین کے درمیان کون سا خفیہ معاہدہ ہوا ہے؟‘‘


قابل ذکر ہے کہ سپریا شرینیت نے ایک طرف بی جے پی لیڈران کی سی پی سی وفد سے ملاقات کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور دوسری طرف آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں چین کے سی پی سی لیڈران نے دتاترے ہوسبولے سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً نصف گھنٹے تک چلی۔ آر ایس ایس ذرائع کے حوالہ سے کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات اس لیے ہوئی کیونکہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے اس کی خواہش ظاہر کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ سی پی کے نمائندہ وفد نے بی جے پی ہیڈکوارٹر کا دورہ 12 جنوری کو کیا تھا۔ اس نمائندہ وفد کی قیادت سی پی سی کے بین الاقوامی ڈپارٹمنٹ کی ڈپٹی وزیر سن ہیان نے کی۔ بی جے پی کے محکمہ امور خارجہ کے انچارج وجئے چوتھائی والے نے ’ایکس‘ پر اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ میٹنگ کے دوران بی جے پی جنرل سکریٹری ارون سنگھ کی قیادت میں ایک گروپ نے ’بی جے پی اور سی پی سی کے درمیان بین پارٹی ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کے طریقوں‘ پر تفصیلی بات چیت کی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔