
فوٹو ویڈیو گریپ
ریچا دوبے اور خوشی دوبے
اترپردیش کے کانپور میں بدنام زمانہ بکرو واقعہ میں شامل وکاس دوبے کی بیوی ریچا دوبے 5 سال بعد آج اچانک میڈیا کے سامنے نمودار ہوئیں جس میں انہوں نے خوشی دوبے پرخاندان کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔ ریچا نے الزام لگایا کہ وکاس ہی خوشی کو بچاکر لائے تھے اور وہ وکاس پر ہی غلط الزام لگا رہی ہے۔ یہی نہیں انہوں نے خوشی کے’دوبے‘ ہونے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اس کی 3 شادیاں ہوئی ہیں۔
Published: undefined
ریچا دوبے نے وکاس دوبے پربن رہی فلم پر پابندی لگانے کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کہانی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ خاندان کو ابھی بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ریچا کے سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ کانپور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ریچا دوبے نے خوشی دوبے پرالزامات کی بوچھاڑ کردی۔ انہوں نے کہا کہ خوشی دوبے ان کے متوفی شوہر وکاس دوبے اوران کے خاندان کو بدنام کر رہی ہے۔ اسی لیے میں میڈیا کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کے لئے سامنےآئی ہوں۔
Published: undefined
رچا دوبے نے کہا کہ خوشی اپنے آپ کو خوشی دوبے کہتی ہے لیکن وہ یا تو خوشی تیواری ہے یا خوشی ٹھاکر۔ کیونکہ اس کی 3 شادیاں ہوئی تھیں۔ خوشی کے پہلے شوہر کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے لیکن دوسرا شوہراتل ٹھاکر تھا اور تیسری شادی امر تیواری کے ساتھ ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خوشی جو الزام لگارہی ہے کہ وکاس اسے اُٹھاکر لائے تھے، وہ سراسرغلط ہے۔ اس کو ٹھاکر خاندان سے بچاکر لائے تھے اوراس نے اپنی مرضی سے امر سے شادی کی تھی۔
Published: undefined
بکرو واقعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجھے اس سنسنی خیز واردات کا کوئی علم نہیں تھا اور جو کچھ ہوا وہ غلط تھا، اگر وکاس دوبے زندہ ہوتے تو سب کچھ سامنے آجاتا۔ ریچا دوبے نے کہا کہ انہیں اب بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بکرو واقعے پر مبنی فلم کی بھی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس جھوٹی فلم کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی بھی دائر کی ہے جس میں وکاس دوبے کے بارے میں بہت سی جھوٹی کہانیاں اور بہت سے دوسرے جھوٹے حقائق پیش کیے گئے ہیں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل، ’اے بی پی‘)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined