
تائیوان نے اپنی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ممکنہ چینی حملے کے خطرے کے پیش نظر تائیوان کی حکومت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافی 40 ارب امریکی ڈالر کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ رقم آنے والے برسوں میں ایک نئے اور جدید کثیرالجہتی فضائی دفاعی نظام ’ٹی ڈوم‘ بنانے میں خرچ کی جائے گی۔ یہ پہلا موقع ہے جب تائیوان اتنے بڑے سیکیورٹی انویسٹمنٹ پلان کو سامنے لارہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ لگاتار تائیوان سے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تائیوان حکومت نے کہا ہے کہ یہ خصوصی بجٹ 2026 اور 2033 کے درمیان مرحلہ وار خرچ کیا جائے گا۔ صدر لائی چنگ تے پہلے ہی دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے کی بات کر چکے ہیں۔ فی الحال تائیوان نے 2026 کے لیے اپنا دفاعی بجٹ بڑھاکر 31.18 ارب امریکی ڈالر کر دیا ہے، جس سے کل دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 3.3 فیصد تک پہنچ جائیں گے۔
تائیوان کےصدر لائی نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا کہ نیا بجٹ بنیادی طور پر امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تائیوان کے وزیر دفاع ویلنگٹن کو کے مطابق 40 ارب ڈالر بجٹ کی بالائی حد ہے اور اس کا استعمال درست میزائل، مشترکہ ہتھیاروں کی تیاری اور فوجی ٹیکنالوجی کی خریداری کے لیے کیا جائے گا۔
صدر لائی نے 10 اکتوبر کو اس دفاعی نظام کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اس کا موازنہ اسرائیل کے مشہور ’آئرن ڈوم‘ سے کیا لیکن کہا کہ اس کی صلاحیتیں نمایاں طور پر اس سے زیادہ ہوں گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ’ٹی ڈوم‘ صرف چھوٹے راکٹ ہی نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر خطرات سے نمٹئے گا۔ اس نظام کو چینی لڑاکا طیاروں، بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا جارہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ تائیوان نے یوکرین ۔روس جنگ سے سیکھا ہے کہ صرف جدید فضائی دفاعی نظام ہی شہریوں، فوجی اہلکاروں اور اہم مقامات کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تائیوان چین کے ابتدائی میزائل حملوں کو روک سکتا ہے تو بیجنگ حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ رپورٹس کے مطابق چین تائیوان کے ارد گرد تعینات بحری جہازوں اور زمین پر چلنے والے لانچروں سے صرف 3 منٹ میں سینکڑوں میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔