امریکہ کو ایران کی سخت وارننگ- ’آئندہ کسی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ تیز اور شدید ہوگا‘
ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ اس کے مفادات یا سلامتی کو نشانہ بنایا گیا تو جواب پہلے سے زیادہ تیز اور سخت ہوگا۔ خلیج اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے

تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف آئندہ کسی بھی حملے کا جواب پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور سخت ہوگا۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ بہت دیر ہونے سے پہلے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرے۔
قالیباف نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک خطاب میں کہا کہ ایران کے مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی کا جواب اب پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان خلیجی خطے میں ایرانی تیل بردار ٹینکروں پر امریکی کارروائی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ تنازع میں خلیجی خطہ اور آبنائے ہرمز ایک بار پھر اہم مرکز بن گئے ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکی کارروائی کے بعد اس نے جوابی اقدامات کیے اور امریکی تعلقات رکھنے والے بعض جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایک امریکی جہاز ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے دوران ایرانی کارروائی میں اسے ٹکر ماری گئی۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
بلومبرگ کے مطابق، ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر غیر قانونی راستہ اختیار کرنے والے تین تیل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران نے امریکی تعلقات رکھنے والے دیگر جہازوں کے خلاف کارروائی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے علاقائی پانیوں میں موجود دو امریکی بحری جہازوں کی جانب میزائل داغے۔ سینٹکام کے مطابق دونوں جہاز حملوں سے محفوظ رہے اور کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی کمانڈ نے ان حملوں کو بلااشتعال کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے بعد واشنگٹن کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کے اشارے بھی دیے گئے۔
موجودہ کشیدگی کی جڑ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والے تنازع کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بعد میں جنگ بندی تو ہوگئی، لیکن آبنائے ہرمز اور سمندری راستوں سمیت کئی اہم معاملات پر فریقین کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔
امریکی انتظامیہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد ایرانی معیشت کے اہم مالی اور اقتصادی ذرائع کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔ تازہ بیانات سے واضح ہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی محاذ پر کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
