ثقافتی دورے کے پردے میں آر ایس ایس کا عالمی نیٹ ورک...شیلندر چوہان
موہن بھاگوت کا امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا دورہ آر ایس ایس کی عالمی شناخت اور قبولیت کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ثقافتی رابطوں، ہند نژاد برادری اور پالیسی رسائی کے پہلو نمایاں ہیں

موہن بھاگوت کا امریکہ کا دورہ اختتام کو پہنچتے پہنچتے یہ واضح ہوگیا کہ اسے محض کسی مذہبی و ثقافتی تنظیم کے سربراہ کی جانب سے بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں سے ملاقات قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے صد سالہ سال میں امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب سنگھ ہندوستان کے اندر اپنی سماجی توسیع کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی اپنی نظریاتی موجودگی کو زیادہ منظم شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
خود سنگھ نے اس دورے کو تین مقاصد سے جوڑا ہے: ہندوستان، ہندو سماج اور سنگھ کے بارے میں اپنا ’مثبت‘ نقطۂ نظر دنیا کے سامنے پیش کرنا، ’وسودھیو کٹمبکم‘ یعنی پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنے کا پیغام پہنچانا، اور بیرونِ ملک ہندوؤں و ہند نژاد افراد کے مفادات اور حقوق کے حوالے سے مرکزی دھارے کے معاشرے کے ساتھ مکالمہ بڑھانا۔
نیویارک کا میڈیسن اسکوائر گارڈن امریکی مقبول ثقافت، عوامی سیاست اور بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کی علامت ہے۔ 29 اگست کو یہاں منعقد ہونے والے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن‘ میں 5000 سے زیادہ افراد کی شرکت متوقع تھی اور منتظمین کے مطابق 250 سے زائد ہندو امریکی تنظیمیں اس سے وابستہ تھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس دورے کا ثقافتی پردہ اور اس کے سیاسی معنی ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ بھاگوت نے نیویارک میں جس زبان کا استعمال کیا، وہ خاص توجہ کی مستحق ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی شناخت کو ’تنوع میں اتحاد‘ سے جوڑا اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہ رہیں تو وہ ہندو نہیں ہے۔
یہ زبان ہندوستان میں سنگھ کو درپیش تنقید اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بین الاقوامی سوالات کا ایک جواب بھی دکھائی دیتی ہے۔ جب بھاگوت امریکی پلیٹ فارم سے ہندو مسلم بقائے باہمی، تکثیریت اور انسانیت کی بات کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہ رہیں تو وہ ہندو نہیں ہے، تو وہ صرف ہندوستانی امریکی سامعین سے مکالمہ نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ امریکی عوامی مباحثے میں آر ایس ایس کی ایک نئی شبیہ بھی پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اسے سنگھ کی ’عالمی ری برانڈنگ‘ کہا جا سکتا ہے۔ تاہم کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
امریکہ میں ہندوستانی نژاد برادری اب محض ایک تارک وطن برادری نہیں رہی۔ مختلف شعبوں میں اس کی ایک بااثر موجودگی قائم ہو چکی ہے۔ اس کا ایک حصہ ہندوستانی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور ہندوستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھی سرگرم ہے۔
آر ایس ایس سیاسی جماعت نہیں ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اس کا نظریاتی اور تنظیمی تعلق ایک قائم شدہ حقیقت ہے۔ امریکی میڈیا اور پالیسی ادارے بھی اکثر اسے بی جے پی کا نظریاتی منبع یا ’آئیڈیولوجیکل پیرنٹ‘ قرار دیتے ہیں۔ اسی لیے بیرونِ ملک آر ایس ایس کی قبولیت کا اثر صرف خود اس تنظیم تک محدود نہیں رہتا۔
پھر سامنے آیا امریکی لابنگ کا سوال۔ اس دورے کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم پس منظر 2025 میں سامنے آنے والا امریکی لابنگ تنازع ہے۔ امریکی کانگریس میں جمع کرائی گئی لابنگ معلومات سے متعلق رپورٹنگ کے مطابق واشنگٹن کی قانونی فرم ’سکوائر پیٹن بوگ‘ کو 2025 میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے گئے تھے۔ اس انتظام کا مقصد آر ایس ایس کو امریکی حکام سے متعارف کرانا بتایا گیا تھا۔
اس وقت کی رپورٹوں میں اس انتظام کو آر ایس ایس سے وابستہ بتایا گیا تھا۔ تاہم آر ایس ایس نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکہ میں کسی لابنگ فرم کی خدمات حاصل نہیں کیں۔ بعد میں اس کمپنی نے اپنے انکشافات میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کام کے لیے اس کا کلائنٹ آر ایس ایس نہیں بلکہ وویک شرما تھا، اور اس نے آر ایس ایس سے متعلق کام ختم کردیا ہے۔
اس کے باوجود کئی سوال باقی رہتے ہیں: ادائیگی کس نے کی؟ ہدایات کس کی طرف سے تھیں؟ مقصد کیا تھا؟ کن امریکی حکام سے رابطہ کیا گیا؟ اور کیا یہ محض تنظیم کا تعارف کرانے کی کوشش تھی یا ہندوستان امریکہ تعلقات سے متعلق وسیع تر معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش بھی اس میں شامل تھی؟
واشنگٹن میں لابنگ اور نیویارک میں میڈیسن اسکوائر گارڈن کے پروگرام کو مکمل طور پر ایک دوسرے سے غیر متعلق سمجھنا شاید حد سے زیادہ سادہ نتیجہ ہوگا۔ ایک جانب پالیسی سازوں اور سرکاری اہلکاروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش ہے، تو دوسری جانب وسیع ہندوستانی امریکی برادری کے سامنے ایک بڑے عوامی پلیٹ فارم پر تنظیم کی شبیہ پیش کرنے کی کوشش۔
ایک طرف اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کی کوشش دکھائی دیتی ہے، تو دوسری طرف معاشرے میں قبولیت حاصل کرنے کی کوشش۔ اسے کسی خفیہ سازش کے طور پر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ جدید سیاسی ابلاغ میں یہ ایک عام حکمت عملی ہے، پالیسی تک رسائی اور عوامی جواز، دونوں کو بیک وقت مضبوط کرنا۔ بھاگوت کے معاملے میں یہ عمل اس لیے زیادہ اہم ہے کہ آر ایس ایس ہندوستان میں جتنی بااثر سماجی تنظیم ہے، امریکہ میں اس کی نظریاتی شناخت اتنی ہی غیر متنازع نہیں ہے۔
بھاگوت کے نیویارک پروگرام کا انعقاد امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ (اہیڈ فورم) نے کیا۔ اس کا عوامی تعارف ایک ایسے ادارے کے طور پر کرایا جاتا ہے جو ثقافتی مکالمے، مختلف برادریوں کے درمیان پل اور ’مذہبی اقدار‘ کے ذریعے امن و ہم آہنگی کو فروغ دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے پلیٹ فارم پر ’گلوبل یونیٹی‘، ’کلچرل ایکسچینج‘ اور ’دھارمک ویلیوز‘ جیسی اصطلاحات نمایاں ہیں۔
تاہم اہیڈ کے کردار کے حوالے سے امریکی میڈیا اور ناقدین نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ الجزیرہ نے اس کے ادارہ جاتی پس منظر اور آر ایس ایس سے وابستہ تارکینِ وطن کے نیٹ ورک کے ساتھ اس کے تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ بعض تنقیدی رپورٹس نے اہیڈ کو آر ایس ایس/ہندو سویم سیوک سنگھ (ایس ایس ایس) سے وابستہ پرانے نیٹ ورک کی نئی عوامی ساخت کے طور پر دیکھنے کی دلیل پیش کی ہے۔
ان دعوؤں کو اہیڈ یا آر ایس ایس کی جانب سے تسلیم شدہ حقائق قرار دینا مناسب نہیں ہوگا؛ اس لیے انہیں الزامات یا تحقیقاتی نتائج کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ اہیڈ اکیلا نہیں ہے۔ منتظمین نے 250 سے زیادہ ہندو امریکی تنظیموں کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ میں ہندو شناخت کی سیاست اب صرف مذہبی حقوق کا سوال نہیں رہی۔ ہندوستانی سیاست کی نظریاتی بحثیں بھی وہاں پہنچ چکی ہیں۔
کچھ تنظیمیں ہندوستان کی ہندو شناخت اور بی جے پی و آر ایس ایس کے حوالے سے مثبت نقطۂ نظر رکھتی ہیں۔ دوسری طرف ہندوز فار ہیومن رائٹس، انڈین امریکن مسلم کونسل، دلت سالیڈیرٹی فوم اور دیگر شہری حقوق کی تنظیمیں ہندوتوا کی سیاست پر تنقید کرتی ہیں۔ بھاگوت کے پروگرام کی مخالفت اسی تقسیم کا ایک عوامی اظہار تھی۔ 65 سے زیادہ امریکی تنظیموں نے اس دورے کی مخالفت کی، جبکہ حامیوں نے سیکڑوں ہندو تنظیموں کی حمایت کا دعویٰ کیا۔ یہاں ایک سنجیدہ سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ’ہندو امریکی‘ اپنے آپ میں ایک سیاسی شناخت بنتی جا رہی ہے؟
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ وہ آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ یا اس کے پروگرام کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ ہندوستان کے تکثیری اور سیکولر تصور سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اس کے بعد امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے آر ایس ایس اور ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کی صورتِ حال کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد پر ہدفی پابندیوں اور بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے جیسی سفارشات پیش کیں۔ حکومت ہند ان الزامات کو جانبدارانہ قرار دیتی ہے، جبکہ آر ایس ایس خود کو ہندو ثقافتی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف کی سفارشات پابند نہیں ہیں اور امریکی حکومت نے ان سفارشات پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کی رپورٹ یا سفارش آر ایس ایس کے خلاف امریکی حکومت کا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے مباحث میں سنگھ کو لے کر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں بھاگوت نے امریکہ میں اپنی سب سے زیادہ جامع اور شمولیتی زبان استعمال کی۔
بھاگوت کا یہ کہنا کہ جو شخص ہندوستان میں مسلمانوں کے نہ رہنے کی خواہش رکھتا ہے، وہ ہندو نہیں ہے، سیاسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں جاری ہندوتوا کی بحث کے تناظر میں اسے سنگھ کی جانب سے ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
لیکن اس کے دو معنی ہیں۔ اول، سنگھ اپنے نظریے کی ایسی تشریح پیش کر رہا ہے جس میں مسلمان شہری ہندوستان کے ثقافتی تصور سے باہر نہیں ہیں۔ دوم، یہ پیغام امریکہ جیسے معاشرے میں سنگھ کی شبیہ کے حوالے سے موجود خدشات کا براہِ راست جواب بھی ہے۔ تاہم اصل امتحان تقریر کا نہیں، عمل کا ہوگا۔
بھاگوت کے دورے میں ’وسودھیو کٹمبکم‘ کا تصور بار بار سامنے آیا۔ اس میں کوئی غیر فطری بات نہیں۔ لیکن جب کوئی تنظیم اسے اپنی بین الاقوامی شناخت کا مرکزی اصول بناتی ہے تو وہ اس کے ساتھ ایک سیاسی زبان بھی تشکیل دے رہی ہوتی ہے۔
ہندوستان کو صرف ایک جدید قومی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک قدیم تہذیب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس اسے ہندو ثقافتی نقطۂ نظر کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہیں ’ہندوستانی ثقافت‘ اور ’ہندو تہذیب‘ کے مفاہیم پر بحث شروع ہوتی ہے۔ امریکہ میں یہ بحث مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے، کیونکہ وہاں ’مذہبی آزادی‘، ’تکثیریت‘، ’اقلیتی حقوق‘ اور ’نسلی شناخت‘ الگ الگ سیاسی معنی رکھتے ہیں۔
اس دورے کو سمجھنے کے لیے شاید سب سے موزوں لفظ لیجیٹی میسی یعنی ’جواز اور قبولیت‘ ہے۔ آر ایس ایس ہندوستان میں ایک انتہائی طاقتور سماجی تنظیم ہے، لیکن مغربی عوامی مباحثے میں اسے 3 بڑے مسائل کا سامنا ہے: اس کی ہندوتوا کی نظریاتی سوچ، بی جے پی کے ساتھ اس کا تعلق، اور ہندوستان میں اقلیتوں کی صورتِ حال کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات۔ اگر سنگھ اپنی عالمی شبیہ کو صرف تشہیر کے ذریعے تبدیل کرنا چاہتا ہے تو یہ حکمت عملی طویل مدت تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔
سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ سنگھ پہلی بار خود کو ایک عالمی ثقافتی تنظیم کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن دنیا اسے ہندوستان کی سیاسی بحثوں سے الگ کر کے دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی بالآخر اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس کی بین الاقوامی زبان اور ہندوستان میں اس کے سماجی و سیاسی کردار کے درمیان کتنی دوری رہتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
