ستیہ نکیتن عمارت حادثہ میں 2 افراد جاں بحق، 8 ملبے سے نکالے گئے؛ راہل گاندھی نے طلبہ کی سلامتی پر ظاہر کی تشویش
دہلی کے ستیہ نکیتن میں 5 منزلہ پی جی عمارت منہدم ہونے سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 8 افراد کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے۔ ریسکیو جاری ہے اور راہل گاندھی نے طلبہ کی سلامتی پر تشویش ظاہر کی

نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کو طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ (پی جی) کے طور پر استعمال ہونے والی پانچ منزلہ عمارت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ ملبے سے اب تک 8 افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ کئی دیگر افراد کے ملبے میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے اور امدادی و بچاؤ کارروائی مسلسل جاری ہے۔
یہ حادثہ اتوار کو تقریباً دوپہر ڈیڑھ بجے پیش آیا۔ ستیہ نکیتن دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب واقع ہے اور علاقے میں بڑی تعداد میں طلبہ کے پی جی اور ہاسٹل موجود ہیں۔ منہدم ہونے والی عمارت کو مقامی طور پر ’ہاسٹل ڈیز‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
دہلی پولیس کے مطابق عمارت میں ایک بیسمنٹ اور اوپر 5 منزلیں تھیں اور اسے پی جی کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حادثے کے وقت بیسمنٹ میں مرمت یا تعمیراتی کام جاری تھا۔ پولیس کو دوپہر 1:34 بجے نانک پورہ گوردوارے کے قریب عمارت منہدم ہونے کی اطلاع ملی، جس کے بعد فوری طور پر پولیس، فائر بریگیڈ، کیٹ ایمبولینس اور دیگر ہنگامی خدمات کو موقع پر بھیجا گیا۔
قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹا رہی ہیں اور اندر پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن پوری رات بھی جاری رہ سکتا ہے، کیونکہ عمارت کا ملبہ کافی زیادہ ہے اور اسے مختصر وقت میں مکمل طور پر ہٹانا آسان نہیں۔
ذرائع کے مطابق ملبے سے نکالے گئے افراد میں سے کئی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ایمس کے ذرائع نے بتایا کہ اسپتال لائے گئے 4 زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ ایک شخص کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ ایک بچاؤ کارکن کو بھی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم علاج کے بعد اسے چھٹی دے دی گئی۔
کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ستیہ نکیتن حادثے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے این ایس یو آئی (این ایس یو آئی) کو متاثرین اور طلبہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت دی ہے اور وہ مسلسل طلبہ کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کا واقعہ انتہائی دردناک اور تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق ملبے میں متعدد افراد کے ساتھ دہلی یونیورسٹی کے کئی طلبہ کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس اور تمام امدادی ٹیموں سے اپیل کی کہ ہر ایک طالب علم تک پہنچنے اور انہیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے اور زخمیوں کو فوری طور پر بہترین علاج فراہم کیا جائے۔
انہوں نے طلبہ کی رہائش کے مسئلے پر بھی توجہ دلائی اور کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مناسب ہاسٹل نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو پی جی میں مشکل اور غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر طالب علم کی جان قیمتی ہے اور اس کی حفاظت ہر حال میں ہونی چاہیے۔
کانگریس اور این ایس یو آئی کے کارکن بھی موقع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائی میں ممکنہ تعاون کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پرینکا گاندھی نے بھی واقعے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ کیمپس کے قریب عمارت منہدم ہونے کی خبر نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے امدادی اور بچاؤ کارروائی تیز کرنے کی اپیل کی تاکہ ملبے میں پھنسے ہر شخص تک بروقت مدد پہنچ سکے۔
پولیس نے عمارت کے مالک کی شناخت کرلی ہے اور اسے گرفتار کرنے کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔ فی الحال ملبے میں پھنسے افراد کی حتمی تعداد واضح نہیں ہے، جبکہ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
