ٹوٹے ہوئے رشتوں کے بیچ مشترکہ خاندان کی واپسی...ابھے شکلا

نوجوانوں کی بڑھتی عمرِ شادی، بے روزگاری، مہنگی شہری زندگی اور اے آئی کے بدلتے روزگار نے نئی نسل کو دوبارہ والدین کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا ہے۔ مگر یہ نیا مشترکہ خاندان پرانے اصولوں سے مختلف ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

مشترکہ خاندان ہندوستانی معاشرے کو صدیوں تک جوڑے رکھنے اور مضبوط بنانے والا ایک مؤثر سماجی ڈھانچہ رہا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے تین یا چار نسلوں کا ساتھ رہنا نہ صرف خاندان کو ایک بڑے سماجی گروہ میں بدل دیتا تھا بلکہ رشتوں میں قربت اور باہمی تعاون بھی قائم رکھتا تھا۔ انفرادی وسائل ایک مشترکہ معیشت کا حصہ بن جاتے اور خاندان کا ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق اس میں کردار ادا کرتا تھا۔

اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ خاندان کے کمزور ارکان، بچوں، بزرگوں، بیماروں، معذوروں، بے روزگاروں اور مالی طور پر محتاج افراد، کی دیکھ بھال اجتماعی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ اس طرح وہ بھی عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکتے تھے۔ اس زمانے میں نہ آج جیسی سرکاری فلاحی اسکیمیں تھیں، نہ پنشن کا وسیع نظام، نہ اولڈ ایج ہوم اور نہ ہی ‘آیوشمان بھارت’ جیسا سماجی تحفظ۔ خاندان ہی بیشتر حالات میں فرد کی پہلی اور آخری پناہ گاہ تھا۔

میرے والد کی نسل شاید اس مشترکہ خاندانی روایت کی آخری نسلوں میں سے ایک تھی۔ ان کا انتقال 2017 میں 93 برس کی عمر میں ہوا۔ وہ خود ایک بڑے اور بھرے پُرے خاندان میں پلے بڑھے تھے، جس میں والدین، چار بہن بھائی، متعدد چچا، تایا، پھوپھیاں اور ان کے خاندان، حتیٰ کہ کچھ ایسی بیوہ خواتین بھی شامل تھیں جو سماجی طور پر نسبتاً بے سہارا تھیں۔ سب اتر پردیش کے فتح پور ضلع میں ہمارے گاؤں میں میرے دادا کی بنوائی ہوئی ایک وسیع حویلی میں مل جل کر رہتے تھے۔

یہ مت سمجھئے کہ وہ کوئی جمہوری نظام تھا۔ دراصل وہ مکمل طور پر پدرشاہی نظام تھا۔ میرے دادا جو فیصلہ کر دیتے، وہی آخری حکم سمجھا جاتا۔ خاندان کے باقی افراد اسے عموماً قبول کر لیتے، کیونکہ سب جانتے تھے کہ اس اجتماعی نظام میں ہر فرد کا مفاد کسی نہ کسی طرح جڑا ہوا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ ہندوستانی مشترکہ خاندانوں کا بکھراؤ 1960 اور 1970 کی دہائی میں شروع ہوا اور 1990 کی دہائی کے اواخر اور 2000 کی ابتدائی دہائی تک یہ نظام بڑی حد تک دم توڑ چکا تھا۔


چیزیں میری نسل یعنی بیبی بومرز (1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل) کے زمانے میں تیزی سے بدلنے لگیں۔ تعلیم، آمدورفت اور روزگار کے مواقع بڑھے تو نوجوانوں نے گھر سے باہر نکلنا شروع کیا۔ پہلے بہتر تعلیم کے لیے اور پھر ملازمت کے لیے۔ آہستہ آہستہ وہ آبائی گھروں سے دور اپنی الگ زندگی بسانے لگے۔ اگلی نسل، یعنی ‘ملینیئلز’ کے ساتھ یہ عمل مزید تیز ہوا۔ مشترکہ خاندان سکڑتے گئے اور ان کی جگہ چھوٹے، یکلخت خاندانوں نے لے لی۔

یہ تبدیلی صرف معاشی اور روزگار کے مواقع کا نتیجہ نہیں تھی۔ لڑکیوں کی تعلیم میں اضافے نے بھی اسے نمایاں طور پر متاثر کیا۔ خواتین اب کم عمری میں شادی کر کے صرف شوہر اور خاندان کی ترجیحات کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں تھیں۔ وہ تعلیم، ملازمت اور آزادانہ شناخت چاہتی تھیں۔ شادی کے بعد کہاں اور کس طرح رہنا ہے، یہ فیصلہ بھی اب خاندان کے سربراہ کے بجائے میاں بیوی کی معاشی صورت حال، ملازمت، آمدنی، کیریئر کے امکانات اور اپنی زندگی اپنے انداز میں گزارنے کی خواہش سے ہونے لگا۔

لیکن اب ’جین زی‘ کے دور میں حالات ایک دلچسپ موڑ لے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جین قوتوں نے نوجوانوں کو مشترکہ خاندانوں سے دور کیا تھا، وہی آج انہیں دوبارہ والدین کے گھر کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ 20 سے 30 برس کی عمر کے کام کرنے والے اور بے روزگار، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ نوجوان بڑی تعداد میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگے ہیں۔ اس رجحان کے پیچھے سب سے اہم عوامل بڑھتی ہوئی عمر میں شادی، بے روزگاری، کم آمدنی اور شہری زندگی کے بڑھتے اخراجات ہیں۔

لڑکے اور لڑکیاں دونوں پہلے کی نسبت دیر سے شادی کر رہے ہیں۔ اس کا ایک قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ عرصے تک غیر شادی شدہ رہنے والے نوجوان اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ دوسری طرف طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شادی ٹوٹنے کے بعد بہت سے افراد کے لیے والدین کا گھر دوبارہ ایک محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے۔


بے روزگاری اس رجحان کو مزید تقویت دے رہی ہے۔ بڑی تعداد میں نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود مناسب روزگار حاصل نہیں کر پا رہے۔ جو ملازمتیں کر بھی رہے ہیں، ان میں سے بہت سوں کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ خاص طور پر بڑے شہروں میں الگ گھر، کرایہ، بجلی، سفر اور روزمرہ کے اخراجات آسانی سے برداشت کر سکیں۔ لاکھوں نوجوان ایسے بھی ہیں جو نہ ملازمت میں ہیں، نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ کسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ایسے حالات میں والدین کے ساتھ رہنا محض جذباتی انتخاب نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی بن جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی نے مستقبل کے روزگار کے حوالے سے اس بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے باعث ملازمتوں کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے اور کئی شعبوں میں انسانی محنت کی جگہ خودکار نظام لے رہے ہیں۔ دوسری طرف درمیانے اور چھوٹے شہروں میں بھی مکان خریدنا یا مناسب گھر کرائے پر لینا بہت سے نوجوانوں کے لیے آسان نہیں رہا۔

ایسے میں بزرگ والدین اور ان کا نسبتاً کشادہ گھر اچانک ایک پرکشش متبادل بن جاتا ہے۔ یوں مشترکہ خاندان ایک بار پھر متعلقہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ صورتحال عمر رسیدہ والدین کے لیے بھی سہولت کا باعث ہے، کیونکہ انہیں تنہائی کے بجائے اولاد کی قربت اور مدد ملتی ہے۔ بظاہر یہ دونوں نسلوں کے لیے فائدہ مند بندوبست ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے۔

قدرت کا اصول یہ نہیں کہ اولاد ہمیشہ والدین کے ساتھ رہے۔ جانداروں کی بہت سی اقسام میں والدین اپنی اولاد کو خود کفیل ہونے کے قابل بناتے ہیں اور پھر انہیں اپنی الگ زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ انسان نے تہذیب اور معاشرت کے ذریعے اس فطری عمل کو مختلف شکلیں دی ہیں، مگر بالغ افراد کا ایک ساتھ رہنا بہرحال اختلافات اور تناؤ کے امکانات پیدا کرتا ہے۔


پرانے مشترکہ خاندانوں میں ایسے اختلافات کو خاندان کے سربراہ کی اتھارٹی کے ذریعے حل کر لیا جاتا تھا۔ لیکن آج کی نسل اس طرزِ عمل کو آسانی سے قبول نہیں کرتی۔ جین زی، جنریشن الفا اور آنے والی نسلوں کو سوال اٹھانے، اپنی رائے ظاہر کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کی تربیت مل رہی ہے، ان سے اندھی اطاعت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو نئے مشترکہ خاندان کو پرانے مشترکہ خاندان سے الگ کرتا ہے۔

اگر مشترکہ خاندان کا یہ دوسرا دور کامیاب بنانا ہے تو محض ایک چھت کے نیچے رہنا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے صبر، باہمی سمجھ بوجھ، ایثار، سمجھوتے کی صلاحیت، ایک دوسرے کی نجی زندگی کا احترام اور حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کی دیکھ بھال ضروری ہوگی۔ والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بالغ اولاد ان کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنی الگ شخصیت اور ترجیحات رکھتی ہے، جبکہ نوجوانوں کو یہ احساس برقرار رکھنا ہوگا کہ آزادی کا مطلب ذمہ داری سے فرار نہیں۔

یہ نیا مشترکہ خاندان ابھی ایک تجربے کے مرحلے میں ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تجربہ کامیاب ہوگا۔ آخرکار خاندان ہی کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ خوش، متوازن اور باہمی احترام پر قائم خاندان ہی ایک مستحکم معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں—اور آج کی تیزی سے بکھرتی دنیا کو شاید سب سے زیادہ اسی چیز کی ضرورت ہے۔

(ابھے شکلا، ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ یہ مضمون ان کے بلاگ avayshukla.blogspot.com پر شائع مضمون کی تدوین شدہ شکل ہے)