قومی خبریں

ہتکِ عزت سمن معاملہ: کیجریوال اور آتشی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت متوقع

بی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ اے اے پی لیڈر نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی ہدایت پر بنیا، پوروانچلی اور مسلم کمیونٹی کے 30 لاکھ ووٹروں کے ناموں کو ہٹا دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کیجریوال اور آتشی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

کیجریوال اور آتشی، تصویر سوشل میڈیا

 

عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اور دہلی کی سابق وزیراعلیٰ آتشی کی طرف سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ آج سماعت کرے گی۔ اس درخواست میں انہوں نے ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر وٹروں کے نام حذف کرنے کے معاملے میں اپنے تبصروں سے متعلق ہتک عزت کے مقدمے میں جاری سمن کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کاز لسٹ کے مطابق یہ معاملہ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ کے سامنے درج ہے۔ اس سے پہلے کیجریوال اورآتشی کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے بی جے پی لیڈر راجیو ببر کے ذریعہ ان کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمے میں مزید کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ اپنے عبوری حکم میں جسٹس ہریشی کیش رائے (اب ریٹائرڈ) کی سربراہی والی اس وقت کی بنچ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کیا کسی سیاسی جماعت کو ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کے لیے ایک متاثرہ فریق سمجھا جا سکتا ہے، اس کی مکمل جانچ کی ضرورت ہوگی۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 4 ہفتوں میں جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کریں۔ اس دوران مزید کارروائی پر روک رہے گی۔ ستمبر2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت جرائم کے لیے اے اے پی رہنماؤں کے خلاف ٹرائل کورٹ کے سمن آرڈر میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کی طرف سے یہ دفاع کیا گیا ہے کہ الزامات نیک نیتی اور عوامی مفاد میں لگائے گئے تھے، مقدمے کی سماعت کے دوران ثابت اور قائم ہونے کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

جسٹس انوپ کمار میندیرتہ کی سنگل جج بنچ نے کہاکہ موجودہ کیس میں لگائے گئے الزامات بنیادی طور پر ہتک آمیز ہیں، جس کا مقصد بی جے پی کو بدنام کرنا ہے اور اسے مخصوص برادریوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 لاکھ ووٹروں کے ناموں کو حذف کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا کر غلط سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

Published: undefined

جسٹس میندیرتہ نے مزید کہا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا حذف کرنے میں سیاسی جماعت کا بہت کم کردار ہوتا ہے کیونکہ یہ کام قانونی طور پرالیکشن کمیشن کو سونپا جاتا ہے۔ مارچ 2019 میں ٹرائل کورٹ نے دہلی بی جے پی  کے مجاز نمائندے ببر کی شکایت پرکیجریوال، آتشی اور سشیل کمار گپتا کے ساتھ منوج کمار کو سمن بھیجا تھا۔

Published: undefined

بی جے پی لیڈر ببر نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا تھا کہ اے اے پی لیڈر نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی ہدایت پر بنیا، پوروانچلی اور مسلم کمیونٹی کے 30 لاکھ ووٹروں کے ناموں کو ہٹا دیا ہے۔ ٹرائل کورٹ کے ذریعہ جاری سمن میں مداخلت کرنے سے دہلی ہائی کورٹ کے انکار سے ناراض کیجریوال اور آتشی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے پوری کارروائی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined