سبریمالا مندر سونا چوری معاملہ: کیرالہ ہائی کورٹ کا سی بی آئی جانچ کا حکم دینے سے انکار

کیرالہ ہائی کورٹ نے سبریمالا مندر سے سونے کی چوری کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ عدالتیں عوامی تاثر یا قیاس آرائیوں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کرتیں

<div class="paragraphs"><p>کیرالہ ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کوچی: کیرالہ ہائی کورٹ نے سبریمالا مندر سے سونے کی چوری کے معاملے میں سی بی آئی جانچ کرانے کی درخواست پر فی الحال حکم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ جانچ ایک مجاز افسر کے ذریعے عدالتی نگرانی میں جاری ہے، اس لیے اس مرحلے پر جانچ کسی مرکزی ایجنسی کو منتقل کرنے کی ضرورت نظر نہیں آتی۔

یہ معاملہ اس وقت زیر سماعت آیا جب ایک درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ سبریمالا مندر سے سونا غائب ہونے کے معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی سے کرائی جائے۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور اس کی غیر جانبدار جانچ کے لیے مرکزی ایجنسی کی ضرورت ہے۔

تاہم کیرالہ ہائی کورٹ کی دیوسوم بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اس معاملے کی جانچ پہلے ہی ریاست کے ایک تجربہ کار اور قابل افسر کے ذریعے کی جا رہی ہے، جسے ریاست کے بہترین جانچ افسران میں شمار کیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب جانچ پہلے سے عدالتی نگرانی میں ہو رہی ہو تو محض شبہات یا عوامی بحث کی بنیاد پر اسے کسی دوسری ایجنسی کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ نچلی عدالت کی جانب سے ملزمان کو ضمانت دیتے وقت کی گئی بعض مشاہداتی باتوں کو بنیاد بنا کر جانچ کو کسی دوسری ایجنسی کے حوالے کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ بنچ کے مطابق ایسی رائے یا تبصرے خود بخود اس بات کا جواز فراہم نہیں کرتے کہ جاری جانچ میں عدالتی مداخلت کی جائے۔


ہائی کورٹ نے اپنے مشاہدے میں یہ بھی واضح کیا کہ عدالتیں کسی بھی معاملے میں عوامی تاثر، قیاس آرائیوں یا سماجی بحث سے متاثر ہو کر فیصلے نہیں کر سکتیں۔ عدالت نے کہا کہ عدلیہ کو صرف ریکارڈ پر موجود شواہد اور جانچ کی حقیقی پیش رفت کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلے کرنے چاہئیں۔

عدالت نے اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کی درخواست پر ایک ہفتے بعد دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس دوران جاری جانچ کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔

سبریمالا مندر سے جڑی اس سونے کی چوری نے حالیہ ہفتوں میں عوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس کی جانچ مرکزی ایجنسی سے کرانے کی مانگ بھی اٹھ رہی ہے۔ تاہم ہائی کورٹ کی موجودہ رائے کے بعد جانچ فی الحال اسی نظام کے تحت جاری رہے گی جو پہلے سے نافذ ہے۔

اس معاملے میں تشکیل دی گئی خصوصی جانچ ٹیم کی جانب سے دو فرد جرم داخل کی جا چکی ہیں۔ ان میں نامزد 13 ملزمان میں سے اب تک 9 افراد کو عدالت سے ضمانت مل چکی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔