
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں دو مجرموں کی جانب سے دائر خصوصی عرضی پر گجرات اور مہاراشٹر حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ معاملہ 2002 میں گودھرا واقعہ کے بعد بھڑکنے والے فسادات سے جڑا ہوا ہے۔ مجرموں نے بامبے ہائی کورٹ کے 2017 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں ان کی سزا اور قصور ثابت ہونے کو برقرار رکھا گیا تھا۔
Published: undefined
جسٹس راجیش بندل اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے بپن چندر کنائی لال جوشی عرف لالا ڈاکٹر اور پردیپ رمن لال مودھیا کی عرضی پر نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے دونوں ریاستی حکومتوں کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس معاملے کی آئندہ سماعت پانچ مئی کو مقرر کی گئی ہے۔
عرضی گزاروں نے چار مئی 2017 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں بامبے ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے 11 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور ان کے خاندان کے افراد کے قتل کے جرم میں دی گئی تھی۔
Published: undefined
ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں نہ صرف مرکزی مجرموں کی سزا کو برقرار رکھا بلکہ بعض پولیس اور طبی اہلکاروں کے کردار پر بھی سخت تبصرہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ متعلقہ اہلکاروں نے پوسٹ مارٹم کے عمل میں سنگین لاپرواہی برتی اور اہم معلومات کو جان بوجھ کر چھپایا، جس سے حقائق کو دبانے کی ایک کڑی بنی۔
عدالت نے مزید کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے مجرموں کو بچانے اور شواہد کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اسی بنیاد پر بعض اہلکاروں کو بری کیے جانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تعزیراتِ ہند کی دفعات 201 اور 218 کے تحت قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، جبکہ دفعہ 217 کے تحت الزام ثابت نہیں ہو سکا۔
Published: undefined
یہ معاملہ فروری 2002 میں پیش آئے پرتشدد واقعات سے جڑا ہے، جب بلقیس بانو، جو اس وقت پانچ ماہ کی حاملہ تھیں، کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی اور ان کے خاندان کے کئی افراد کو قتل کر دیا گیا، جن میں ان کی کمسن بیٹی بھی شامل تھی۔
اس سے قبل جنوری 2024 میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کی جانب سے 11 مجرموں کو دی گئی سزا میں رعایت کو منسوخ کر دیا تھا اور اسے قانونی طور پر ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ عدالت نے مجرموں کو دو ہفتوں کے اندر خودسپردگی کا حکم بھی دیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined