مشرق وسطیٰ کے تنازعہ نے اب تک کے سب سے بڑے توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے: اقوام متحدہ
مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے متعلق انٹونیو گوٹیرس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صرف توانائی کا بحران نہیں ہے، بلکہ یہ قرض، غذائی تحفظ اور ترقی سے جڑا ایک بڑا دھچکا بھی ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کو دنیا کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ نے اب تک کے سب سے بڑے توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صرف توانائی کا بحران نہیں تھا، بلکہ اس کی وجہ سے ان پر قرضوں کا بوجھ بڑھا، غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھے اور ان کی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوئی۔
انٹونیو گوٹیرس نے اپنی رائے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ظاہر کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’کئی ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صرف توانائی کا بحران نہیں ہے، بلکہ یہ قرض، غذائی تحفظ اور ترقی سے جڑا ایک بڑا دھچکا بھی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’کوئی بھی امن معاہدہ یقیناً ضروری راحت فراہم کرے گا، لیکن اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔‘‘
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے کئی شہروں کو شدید نقصان پہنچا۔ جواباً تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ڈرون حملوں کی زد میں کئی توانائی کے مراکز بھی آئے۔ اس دوران ثالثی کی کوششیں بھی کی گئیں۔ پاکستان، قطر اور ترکی جیسے ممالک نے جنگ بندی کی کوشش کی۔
40 روز بعد عارضی جنگ بندی سے کچھ حد تک قابو پایا گیا، لیکن پھر فضائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔ بالآخر 107 دن بعد جی-7 میں ٹرمپ کے دستخط سے امن کی امید پیدا ہوئی ہے۔ فرانس کے ورسائے پیلس میں امن معاہدے پر دستخط کیے گئے، جبکہ مسعود پیزشکیان نے ایران کی جانب سے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے۔ سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں دونوں ممالک ثالثوں کے ساتھ ملے اور 60 روزہ امن معاہدے کے روڈ میپ پر متفق ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے توانائی کے شعبے کو جھٹکے کی بات اس لیے کی کیونکہ تنازعہ کے دوران سمندری جہاز رانی پر تقریباً پابندی لگ چکی تھی۔ ایک طرف ایران نے آبنائے ہرمز پر آمد و رفت روک دی تھی تو دوسری طرف امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایل پی جی، تیل وغیرہ کی ترسیل نہیں ہو پا رہی تھی۔ دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو مارکیٹ بھی اس کی زد میں آ گئی۔ کئی ممالک نے تیل اور گیس کی کھپت کو کنٹرول کرنے کے اقدامات بھی کیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
