محرم سے متعلق چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی پابندیاں معطل، ہائی کورٹ کا عبوری حکم

چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے محرم کے جلوسوں اور مذہبی تقریبات میں وقف بورڈ کی پابندیوں کے نفاذ پر اگلی سماعت تک روک لگا دی۔ عدالت نے کہا کہ فوری نفاذ سے بے اطمینانی پیدا ہو سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>چھتیس گڑھ ہائی کورٹ</p></div>
i

رائے پور: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے محرم کے دوران ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے جاری اس حکم کے نفاذ پر عبوری روک لگا دی ہے، جس میں محرم، عرس اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران ڈی جے، براس بینڈ، دھمال، رقص اور آتش بازی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے اگلی سماعت تک ان احکامات پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیتے ہوئے ریاستی حکومت اور دیگر فریقوں سے جواب طلب کیا ہے۔

یہ معاملہ ممبئی میں قائم صوفی اسلامک بورڈ کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ 11 جون کو جاری کیا گیا حکم وقف ایکٹ 1995 کے تحت وقف بورڈ کو حاصل اختیارات سے تجاوز ہے۔ عرضی گزار کا مؤقف تھا کہ وقف بورڈ کا دائرۂ اختیار بنیادی طور پر وقف املاک کے انتظام تک محدود ہے اور اسے مذہبی رسوم یا برادری کی روایات پر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔


عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کمیٹیوں کو تحلیل کرنے اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی بات کہی گئی ہے، حالانکہ اس کے لیے نہ کوئی نوٹس، نہ سماعت اور نہ ہی قانونی جانچ کا کوئی طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ صوفی اسلامک بورڈ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ امن و امان، شور کی سطح اور عوامی تحفظ سے متعلق معاملات متعلقہ سرکاری اور انتظامی اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ وقف بورڈ کے۔

جسٹس امیتیندر کشور پرساد کی یک رکنی بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ عرضی گزار کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ محرم کی سرگرمیاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں اور ایسے وقت میں پابندیوں کا نفاذ عوام میں بے اطمینانی پیدا کر سکتا ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر ان دلائل کو قابل غور قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوری نفاذ سے محرم کے موقع پر سوگ منانے والوں میں ناراضی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے عبوری راحت دی جانا ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔