
تصویر اے آئی
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے معذور افراد کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض اور غیر حساس تبصروں کے معاملے میں کامیڈین اور یوٹیوبر سمے رینا سمیت 5 کامیڈین کے خلاف درج ایف آئی آر اور فوجداری مقدمات ختم کر دیے ہیں۔ تاہم، عدالت نے اس معاملے میں معذور افراد سے متعلق مواد کی نگرانی اور حساسیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید غور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے جمعہ کو یہ حکم دیا۔ سمے رینا کے علاوہ جن چار دیگر کامیڈین کو راحت ملی، ان میں وپل گوئل، بلراج پرم جیت سنگھ گھئی، سونالی ٹھکر عرف سونالی آدتیہ دیسائی اور نشانت جگدیش تنور شامل ہیں۔
یہ معاملہ ’انڈیاز گوٹ لیٹنٹ‘ کے ایک متنازعہ ایپی سوڈ سے متعلق ہے، جس کی شوٹنگ 14 نومبر 2024 کو کھار ہیبی ٹیٹ میں ہوئی تھی۔ بعد میں اس ایپی سوڈ میں معذور افراد اور نایاب جینیاتی بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کے بارے میں مبینہ طور پر قابل اعتراض اور غیر حساس تبصروں کو لے کر تنازعہ پیدا ہوا اور کئی افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔
اس معاملے میں کیور ایس ایم اے فاؤنڈیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ عرضی میں سمے رینا اور دیگر کامیڈین پر اسپائنل مسکیولر ایٹروفی سمیت نایاب بیماریوں سے متاثرہ افراد کی مشکلات اور علاج کی بھاری لاگت کے بارے میں غیر حساس تبصرے کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اس سے قبل کامیڈین کو محض معافی مانگنے تک محدود رہنے کے بجائے معذور افراد کے لیے مثبت کام کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے انہیں ایسے پروگرام منعقد کرنے کو کہا تھا جن کے ذریعے معذور افراد کی کامیابیوں اور جدوجہد کو سامنے لایا جائے اور نایاب بیماریوں سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے فنڈز جمع کیے جائیں۔
عدالت نے جمعہ کو ان کامیڈین کی جانب سے معذور افراد کے فائدے کے لیے پروگرام منعقد کرنے کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ بنچ نے کہا کہ جب حقیقی کوششیں ہوتی ہیں تو مثبت نتائج آنا یقینی ہیں اور یہ نوجوان باصلاحیت ہیں، اس لیے اگر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنا شروع کیا ہے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
تاہم، سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ عدالت معذور افراد کے بارے میں بنائے جانے والے مواد کی بہتر نگرانی اور ایسے معاملات کی روک تھام کے طریقوں پر مزید سماعت کرے گی اور وسیع تر مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے پر بھی غور کرے گی۔
اس دوران عدالت نے پہلے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کے معاملے میں سمے رینا اور رنویر الہ آبادیہ کے طرز عمل پر بھی سختی کا اظہار کیا تھا۔ جولائی 2026 میں عدالت نے ہدایات پر مبینہ طور پر مناسب عمل نہ کرنے پر سمے رینا، رنویر الہ آبادیہ اور آشیش چنچلانی پر تین تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔