راج اور ادھو ٹھاکرے کا اعلان، 4 اکتوبر کو ممبئی میں الیکشن کمیشن کے خلاف مارچ
راج اور ادھو ٹھاکرے نے 4 اکتوبر کو ممبئی میں الیکشن کمیشن کے خلاف مشترکہ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ راج ٹھاکرے نے تمام سیاسی جماعتوں، بشمول حکمراں جماعتوں، کو شرکت کی دعوت دی ہے

ممبئی: مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے 4 اکتوبر کو ممبئی میں الیکشن کمیشن کے خلاف مشترکہ مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے منگل کو ممبئی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ مارچ میں تمام سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی اور حکمراں جماعتوں کا بھی خیرمقدم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد انتخابی فہرستوں اور خصوصی گہرائی سے نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اٹھنے والے سوالات کو اجاگر کرنا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق مارچ بائیکلہ سے شروع ہوکر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے صدر دفتر کی جانب جائے گا۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ منتظمین نے مارچ کو وسیع سیاسی شرکت کے ساتھ منعقد کرنے کی تیاری کی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہرائی سے نظرثانی (ایس آئی آر) کو لے کر اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ تنازع اس رپورٹ کے بعد مزید نمایاں ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے تقریباً 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مواقع پر کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر اعتراضات درج کیے تھے۔
الیکشن کمیشن نے تاہم اندرونی اختلافات کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سمیت تمام اہم فیصلے تین رکنی کمیشن نے متفقہ طور پر کیے ہیں۔ کمیشن کی موجودہ تشکیل میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی شامل ہیں۔
ایس آئی آر کے معاملے پر کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی احتجاج کر رہی ہیں۔ پیر کو کانگریس نے ملک کے مختلف حصوں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے کہا کہ اس معاملے پر اس کی مہم جاری رہے گی۔
راج اور ادھو ٹھاکرے کی جانب سے مشترکہ مارچ کا اعلان دونوں رہنماؤں کی ایک ساتھ سیاسی سرگرمی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ مارچ کے ذریعے دونوں جماعتیں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر اپنے اعتراضات سامنے رکھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایس آئی آر سے متعلق بعض انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق وضاحتیں بھی جاری کی گئی ہیں اور کمیشن نے اپنے فیصلوں کو متفقہ قرار دیا ہے۔
