چلتی کار سے ورچوئل سماعت میں شامل ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے وکیل پر عائد کیا ایک لاکھ روپے کا جرمانہ
عدالت نے کہا کہ ’’ورچوئل سماعت کی سہولت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت کے وقار اور نظم و ضبط سے سمجھوتہ کیا جائے یا عدالتی کارروائی میں خلل پڑے۔‘‘

دہلی ہائی کورٹ نے ایک وکیل پر ورچوئل سماعت کے دوران چلتی کار سے پیش ہونے پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ورچوئل سماعت کی سہولت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدالت کے وقار اور نظم و ضبط سے سمجھوتہ کیا جائے یا عدالتی کارروائی میں خلل پڑے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ آن لائن سماعت کی سہولت صرف فریقین اور وکلاء کی سہولت کے لیے ہے، لیکن اس کا اس طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا جس سے عدالت کی کارروائی کی سنجیدگی اور وقار متاثر ہو۔
جسٹس اوم پرکاش شکلا کی سنگل جج بنچ نے یہ جرمانہ اس وکیل پر عائد کیا جو ’ڈکری ہولڈر‘ (فیصلے سے فائدہ حاصل کرنے والے فریق) کی جانب سے پیش ہوئے تھے۔ یہ معاملہ ساؤتھ انڈین بینک لمیٹڈ اور یونین بینک آف انڈیا لمیٹڈ کی جانب سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے خلاف دائر کی گئی 2 متعلقہ ’انفورسمنٹ درخواستوں‘ (فیصلہ نافذ کرانے کی درخواستوں) سے متعلق تھا۔ سماعت کے آغاز میں ہی بنچ نے دیکھا کہ ’ڈکری ہولڈرز‘ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نچیکیتا گوئل چلتی کار سے کارروائی میں شامل ہو رہے تھے۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’یہ عدالت ورچوئل سماعت سے ملنے والی سہولت کی قدر کرتی ہے، لیکن ایسی سہولت عدالت کے وقار کی قیمت پر نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے عدالتی کارروائی کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ آنی چاہیے۔‘‘ ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’جب اس عدالت کو ایک دن میں 70 سے زیادہ مقدمات کی سماعت کرنی ہوتی ہے تو سماعت کے دوران بیک گراؤنڈ کا شور اور ہلچل عدالت کے کام کاج میں رکاوٹ بنتی ہے۔‘‘ اس حکم میں ’الیکٹرانک ایویڈنس اور ویڈیو کانفرنسنگ رولز، 2025‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان قواعد کے مطابق وکلاء کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ گاڑیوں سے کارروائی میں شامل نہ ہوں، سوائے ان مخصوص حالات کے جب عدالت سے اس کی اجازت ملی ہو۔
جسٹس شکلا نے کہا کہ ’’یہ ضرورت صرف طریقۂ کار سے متعلق نہیں ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ جب وکیل ورچوئل طور پر پیش ہوں تو وہ ایسی جگہ پر ہوں جو اس عدالت کے مناسب کام کاج کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔‘‘ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں کوئی خاص حالات نہیں تھے اور وکیل کا رویہ قواعد کی خلاف ورزی تھا۔ مذکورہ بالا باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈکری ہولڈر کے وکیل پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ یہ رقم آج سے ایک ہفتے کے اندر دہلی ہائی کورٹ لیگل سروسز کمیٹی کو جمع کرانی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
