اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے رینا کو سپریم کورٹ کی سخت پھٹکار، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے جرمانہ

سپریم کورٹ نے کامیڈین سمے رینا پر عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے اور عدالت کو گمراہ کرنے پر 3 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے مقررہ مدت میں تعمیل نہ ہونے پر مزید سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کی

<div class="paragraphs"><p>سمے رینا / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اسٹینڈ کامیڈین سمے رینا کو عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے اور عدالت کو گمراہ کرنے پر سخت سرزنش کرتے ہوئے ان پر تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر اس کے احکامات پر مکمل عمل درآمد نہ کیا گیا تو مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔ سماعت کے دوران عدالت نے یوٹیوبر رنویر الٰہ آبادیہ سمیت دیگر متعلقہ افراد کے طرز عمل پر بھی سخت ناراضی کا اظہار کیا اور انہیں خود ساختہ یوتھ آئیکون قرار دیتے ہوئے عدالتی احکامات کی پابندی کی اہمیت پر زور دیا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ تنازع سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ سمے رینا نے عدالت کو گمراہ کیا اور اس کے سابقہ احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی شخص سماج کے جذبات کا احترام کرنا اور اپنے طرز عمل میں اصلاح لانا نہیں جانتا تو اسے اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔

سماعت کے دوران عدالت کی معاون سینئر وکیل اپراجیتا سنگھ نے مؤقف اختیار کیا کہ سمے رینا نے عدالت کو یقین دہانی کرانے کے باوجود ریڑھ کی ہڈی کے عضلاتی عارضے میں مبتلا بچوں اور متعلقہ فاؤنڈیشن کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کو مالی معاوضے سے زیادہ اپنی عزت اور وقار عزیز ہے اور وہ اسی مقصد کے لیے قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔


عدالت نے سمے رینا کے علاوہ ان کامیڈینوں پر بھی تین تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جو متنازع پروگرام میں معذور افراد اور ریڑھ کی ہڈی کے عضلاتی عارضے سے متاثرہ بچوں پر کیے گئے مذاق پر قہقہے لگاتے نظر آئے تھے۔ ان میں وپل گوئل، بلراج گھئی، سونالی ٹھکر اور نشانت تنور شامل ہیں۔ عدالت نے سبھی کو دو ہفتوں کے اندر جرمانے کی رقم جمع کرانے اور اس کی تعمیل کا حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔

بنچ نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں عدالتی احکامات پر عمل نہ ہوا تو جرمانے میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے قبل متعلقہ افراد کو معذور افراد کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کرنے، عوامی معذرت پیش کرنے اور علاج کے لیے فنڈ جمع کرنے جیسے اقدامات کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن ان احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔

یہ مقدمہ ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ پروگرام میں معذور افراد اور ریڑھ کی ہڈی کے عضلاتی عارضے سے متاثرہ بچوں کے بارے میں مبینہ توہین آمیز اور غیر حساس تبصروں کے بعد سامنے آیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ سماجی ذمہ داری کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔