ایران کے این پی ٹی سے نکلنے کے اشاروں پر روس کا ردعمل، کریملن نے معاہدے میں رہنے کی امید کی ظاہر

روس نے ایران کے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) سے ممکنہ طور پر نکلنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے ایران معاہدے کا ذمہ دار رکن بنا رہے

<div class="paragraphs"><p>روسی صدر ولادمیر پوتن / تصویر: یو این آئی</p></div>
i

روس نے ایران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے ممکنہ طور پر الگ ہونے کے اشاروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو نہیں چاہتا کہ تہران اس معاہدے سے باہر نکلے۔ کریملن نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران این پی ٹی کا ایک اہم اور ذمہ دار رکن بنا رہے گا۔

روسی صدر کے دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کو ایرانی حکام کی جانب سے این پی ٹی سے علیحدگی کے امکانات سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ روس این پی ٹی کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے عالمی نظام کی بنیاد سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو کو امید ہے کہ ایران اس معاہدے کا ایک اہم اور ذمہ دار فریق بنا رہے گا۔

یہ ردعمل ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ نیک زاد نے کہا تھا کہ ایرانی پارلیمنٹ این پی ٹی سے ملک کی علیحدگی کے لیے تین نکاتی منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق منصوبہ پارلیمنٹ میں باضابطہ طور پر پیش کیے جانے کے بعد اسی روز زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے اور اس کے بین الاقوامی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق نیک زاد نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اور اس کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کے حکام صرف رسمی دورے کرتے ہیں اور ایران کے خلاف منفی رپورٹیں پیش کرتے ہیں۔


ایران میں این پی ٹی سے علیحدگی کا مطالبہ حالیہ دنوں میں زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ ستمبر کے دوران ایرانی قانون سازوں کی جانب سے بھی معاہدے سے نکلنے کے لیے پارلیمانی کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ بعض ارکان پارلیمنٹ نے موجودہ حالات میں این پی ٹی میں ایران کی رکنیت کو ملک کے مفاد میں نہ ہونے کا مؤقف پیش کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی حکومت کے 30 سے زائد سابق عہدیداروں نے بھی ایک کھلے خط میں تہران سے این پی ٹی سے نکلنے کی اپیل کی ہے۔ خط پر سابق نائب صدر اور سابق وزرا سمیت متعدد سابق حکام کے دستخط بتائے گئے ہیں۔

این پی ٹی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی معاہدہ ہے۔ ایران طویل عرصے سے اس معاہدے کا فریق ہے، جبکہ تہران کا مؤقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ دوسری جانب عالمی جوہری نگرانی کے نظام کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات اور معائنوں سے متعلق تنازعہ برقرار ہے۔

روس اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں میں اسٹریٹجک تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، تاہم ماسکو نے اب واضح کیا ہے کہ وہ ایران کو این پی ٹی سے الگ ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی حالیہ ملاقات میں ایران سے متعلق بحران کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔