قومی خبریں

جیل میں بند سونم وانگچک کی صحت پر تشویش، سپریم کورٹ کا ماہر ڈاکٹر سے فوری طبی جانچ کا حکم

سپریم کورٹ نے جیل میں بند ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت سے متعلق شکایت پر ماہر ڈاکٹر سے طبی جانچ کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پیر تک مہر بند رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>سونم وانگچک</p></div>

سونم وانگچک

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جیل میں بند ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت سے متعلق شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے جمعرات کو ایک ماہر ڈاکٹر کے ذریعے ان کی طبی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ ہدایت اس شکایت کے بعد دی کہ جیل میں فراہم کیے جانے والے آلودہ پینے کے پانی کے سبب سونم وانگچک کو پیٹ سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ اس وقت وہ جودھپور کی مرکزی جیل میں قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں ہیں۔

Published: undefined

جسٹس اروِند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے جیل حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ سونم وانگچک کی طبی جانچ کی رپورٹ پیر تک مہر بند لفافے میں عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔ عدالت کے سامنے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے عرضی پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوری طبی جانچ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ آلودہ پینے کے پانی کے باعث سونم وانگچک کے معدے میں مسلسل تکلیف ہے، مگر جیل میں مناسب ڈاکٹر معائنہ کے لیے نہیں آ رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سونم وانگچک کی باقاعدہ ہفتہ وار جانچ کی اجازت دی جائے اور انہیں وہ پانی پینے دیا جائے جو اہل خانہ کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔

Published: undefined

اس کے جواب میں راجستھان حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گزشتہ چار مہینوں کے دوران جیل کے ڈاکٹر نے سونم وانگچک کا اکیس مرتبہ معائنہ کیا ہے اور ان کی صحت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ انہیں وٹامن بی بارہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے اور تازہ ترین رپورٹ میں کوئی سنگین مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

اضافی سالیسیٹر جنرل کے ایم نٹراج نے عدالت میں طبی رپورٹس پیش کیں، جن کے مطابق 26 ستمبر سے 26 جنوری کے درمیان وانگچک کا اکیس بار طبی معائنہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کا بلڈ پریشر معمول کے مطابق ہے اور سینہ و پیٹ کا کلینیکل معائنہ بھی نارمل پایا گیا ہے۔

Published: undefined

تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ سونم وانگچک کو عام طبی جانچ کے بجائے معدے کے امراض کے ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی شکایت کا تفصیلی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کے اس بیان کو بھی ریکارڈ پر لیا کہ ایک سرکاری اسپتال کے ماہر ڈاکٹر کے ذریعے جانچ کرائی جائے گی اور اس کی رپورٹ پیر تک پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی آئینی فہرست میں شامل کرنے کے مطالبے پر ہوئے احتجاج کے بعد، 26 ستمبر کو سونم وانگچک کو قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ حکومت کا الزام ہے کہ ان مظاہروں کے دوران تشدد بھڑکانے میں ان کا کردار تھا، جن میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined