قومی خبریں

بی سی آئی چیئرمین منن کمار مشرا کے خلاف عرضی، سپریم کورٹ کا نئی کمیٹی بنانے سے انکار، 5 ہفتے کی مہلت

سپریم کورٹ نے بی سی آئی چیئرمین منن کمار مشرا کے خلاف عرضی پر نئی کمیٹی بنانے سے انکار کرتے ہوئے اسٹیٹ بار کونسلوں کی تشکیل اور عہدیداروں کے انتخاب کے لیے پانچ ہفتے کی مہلت دی۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین منن کمار مشرا کی کارکردگی کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس معاملے میں نئی کمیٹی مقرر کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسٹیٹ بار کونسلوں کی تشکیل اور وہاں عہدیداروں کے انتخاب کے لیے پانچ ہفتے کی مدت مقرر کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اسٹیٹ بار کونسلوں کے انتخابات ہو چکے ہیں اور ان کی تشکیل کے بعد بار کونسل آف انڈیا کے نئے عہدیداروں کا انتخاب بھی عمل میں آئے گا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ نئی کمیٹی کے انتخاب تک موجودہ کمیٹی بڑے پالیسی فیصلے اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل کی رضامندی سے کرے گی۔

عدالت کے مطابق پہلے اسٹیٹ بار کونسلوں کی تشکیل اور وہاں عہدیداروں کا انتخاب ہوگا۔ اس کے بعد بار کونسل آف انڈیا کے عہدیداروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ عدالت نے اس پورے عمل کے لیے پانچ ہفتے کی مدت مقرر کی ہے۔ اس سے قبل 22 اگست کو منن کمار مشرا نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا تھا۔

انہوں نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) اور بی سی آئی کے سابق شریک چیئرمین سداشیو ریڈی کی جانب سے عائد کیے گئے سنگین الزامات پر اپنا موقف پیش کیا تھا۔ منن کمار مشرا نے خود کو ایک منتخب نمائندہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بار کونسل آف انڈیا ایک قانونی ادارہ ہے اور اس کے عہدیدار جمہوری طریقہ کار کے تحت منتخب کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ بی سی آئی میں کسی تقرری یا نامزدگی کے ذریعے نہیں پہنچے بلکہ ایک منتخب نمائندے ہیں۔ ایڈووکیٹس ایکٹ کے تحت بار کونسل آف انڈیا ایک قانونی ادارہ ہے، جس میں ملک بھر کے 25 لاکھ سے زیادہ وکلا ووٹر ہیں۔

ان کے مطابق پہلے وکلا اپنی اپنی اسٹیٹ بار کونسلوں کے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد اسٹیٹ بار کونسلوں کے منتخب نمائندے بار کونسل آف انڈیا کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تمام ریاستوں سے منتخب ہو کر آنے والے بی سی آئی نمائندے مل کر چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں۔

اپنے عہدے پر رہنے کی مدت کے بارے میں منن کمار مشرا نے کہا تھا کہ یہ ان کی ساتویں مدت ہے اور اس سے قبل چھ مرتبہ وہ بلا مقابلہ منتخب ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ وقت میں بھی بی سی آئی کے دو تہائی سے زیادہ ارکان ان کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر چند افراد ان کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت باتیں کر رہے ہیں تو اس سے بی سی آئی کی حقیقی صورت حال تبدیل نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق ادارے کے اندر آج بھی انہیں واضح اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔