امریکی حملوں کے جواب میں کویت، اردن اور عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: ایرانی پاسداران انقلاب
ایرانی پاسداران انقلاب اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت، اردن اور عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں، کمانڈ پوسٹ، نگرانی کے نظام اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

تہران: ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت، اردن اور عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ان کارروائیوں میں امریکی کمانڈ پوسٹ، فوجی کیمپ، نگرانی کے نظام اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے کویت میں واقع امریکی علی السالم ایئر بیس میں امریکی کمانڈر کے رہائشی علاقے اور کمانڈ پوسٹ کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ یہ کارروائی علی السالم ایئر بیس کے خلاف جاری مہم کا حصہ تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پاس خطے میں امریکی سرگرمیوں سے متعلق وسیع انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق، آئی آر جی سی نے اردن میں خلیج عقبہ کے قریب واقع امریکی میرین کور کے کیمپ ٹائٹین پر بھی بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔
ایرانی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایران کے علاقے سیریک میں ایک شادی کی تقریب پر مبینہ امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔ آئی آر جی سی کے مطابق، اردن میں کیے گئے حملے میں متعدد فوجی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے، جبکہ امریکی فوجیوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے عراق کے شہر اربیل میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ بیان کے مطابق، اربیل میں امریکی اڈے پر موجود نگرانی کرنے والے غبارے کے کنٹرول سسٹم کو تباہ کر دیا گیا۔ آئی آر این اے کے مطابق، آئی آر جی سی کی بری فوج نے اربیل میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کرتے ہوئے ایک مینٹیننس سینٹر اور تکنیکی آلات کے گوداموں کو بھی تباہ کیا۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں متعدد امریکی اہلکار مارے گئے جبکہ ایندھن ذخیرہ کرنے والی تنصیبات میں آگ لگ گئی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ ایران کے علاقے سیریک میں ایک گھر پر امریکی حملے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق، حملے کے وقت گھر میں ایک خاندان شادی کی تقریب منا رہا تھا۔
بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ سیریک کے کوہستک علاقے میں اس وقت ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جب ایک خاندان وہاں شادی کی خوشیاں منا رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 50 سے زیادہ بے گناہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔
ایرانی حکام نے ان کارروائیوں کو امریکی حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔ تاہم، آئی آر جی سی کی جانب سے کیے گئے حملوں، امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
