امریکہ اور ایران کی جنگ میں جھلس گیا ہندوستانی شیئر بازار، سنسیکس-نفٹی اوندھے منھ گرے

پری-اوپننگ سیشن میں ہی سنسیکس 540 پوائنٹس گر کر 76,397.24 کی سطح پر آ گیا تھا۔ نفٹی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی، جو 203 پوائنٹس پھسل کر 23,852.05 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>شیئر مارکیٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

بدھ کی صبح ہندوستانی شیئر بازار کے لیے انتہائی بری خبر لے کر آئی۔ ٹریڈنگ کا پہلا منٹ ہی سرمایہ کاروں کے لیے بھاری نقصان کا سبب بن گیا۔ سنسیکس میں تقریباً 700 پوائنٹس کی زبردست گراوٹ درج کی گئی، جبکہ نفٹی 200 پوائنٹس سے زیادہ ٹوٹ گیا۔ اس بڑے بھونچال کے پیچھے کوئی گھریلو وجہ نہیں، بلکہ امریکہ-ایران کے درمیان اچانک بڑھنے والی کشیدگی ہے۔ راتوں رات دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے حملوں اور جوابی حملوں نے پوری دنیا کی اقتصادی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت والی امریکی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے رات کے وقت ایران میں فوجی ٹھکانوں پر کئی فضائی حملے کیے۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائی کی۔ ان حملوں کا اثر پوری دنیا کی مالیاتی منڈیوں پر پڑا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والے اس خوف کے ماحول نے سرمایہ کاروں کا اعتماد توڑ دیا۔ اسی وجہ سے ایشیائی بازاروں میں بھی شدید گراوٹ کا رخ دیکھنے کو مل رہا ہے۔


آج شیئر مارکیٹ کھلنے سے پہلے ہی اس بڑی گراوٹ کا اندیشہ ہو چکا تھا۔ پری-اوپننگ سیشن میں ہی سنسیکس 540 پوائنٹس گر کر 76,397.24 کی سطح پر آ گیا تھا۔ نفٹی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی، جو 203 پوائنٹس پھسل کر 23,852.05 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ صبح 7:38 بجے گفٹ نفٹی فیوچرز بھی 24,033.5 پوائنٹس پر تھا، جس نے بازار کی منفی شروعات پر مہر لگا دی تھی۔ منگل کو نفٹی 24,055.8 پر بند ہوا تھا۔ اس بھاری فروخت میں سب سے زیادہ حیران کرنے والی بات یہ رہی کہ سنسیکس کی 30 اہم کمپنیوں میں سے صرف ’سن فارما‘ کا شیئر ہی منافع میں نظر آیا۔ باقی تمام بڑی کمپنیوں کے شیئر سرخ نشان میں ڈوبتے دکھائی دیے۔

جنگ جیسے حالات کا سب سے بڑا نقصان توانائی کے بازار کو ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں راتوں رات 2 فیصد کا بڑا اُچھال دیکھنے کو ملا۔ اس کی قیمت بڑھ کر 96.6 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ یہ گزشتہ 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ تنازعہ طویل کھنچتا ہے تو تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک آسمان پر بنی رہ سکتی ہیں۔


خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھنے کے خدشات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔ عالمی بانڈ ییلڈ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خوف ہے کہ امریکہ میں مستقبل قریب میں شرح سود بڑھائی جا سکتی ہے۔ اگر حالات جلد معمول پر نہیں آئے تو غیر ملکی سرمایہ کار ابھرتی ہوئی منڈیوں (جیسے ہندوستان) سے اپنا پیسہ نکال سکتے ہیں۔ سخت عالمی مالیاتی حالات خطرے والے اثاثوں پر بھاری دباؤ ڈال رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ دنیا بھر میں توانائی کا ایک اہم مرکز ہے، ایسے میں وہاں ہونے والی کوئی بھی ہلچل براہ راست ٹرانسپورٹیشن سے لے کر روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔