او بی سی کریمی لیئر معاملہ پر مرکزی حکومت کو لگا جھٹکا، سپریم کورٹ نے پرانے حکم پر روک لگانے سے کیا انکار
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی وضاحتی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سبھی فریقین کو 17 ستمبر 2026 تک اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے معاملے پر سماعت کی۔

او بی سی میں کریمی لیئر کے ریزرویشن سے متعلق معاملے پر سپریم کورٹ نے اپنا رخ واضح کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی وضاحتی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سبھی فریقین کو 17 ستمبر 2026 تک اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے اس معاملے پر سماعت کی۔ اس دوران بنچ نے مرکزی حکومت کو کوئی عبوری راحت دینے یا اپنے سابقہ حکم کے نفاذ پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے 11 مارچ کو دیے اپنے فیصلے میں یہ طے کیا تھا کہ او بی سی کریمی لیئر کا تعین صرف والدین کی آمدنی یا ماہانہ تنخواہ کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ آمدنی کے ساتھ ساتھ والدین کے عہدے، ان کی معاشرتی حیثیت اور ملازمت کے زمرے کو بھی ایک معیار بنایا جائے۔ عدالت کے اس انتظام کے مطابق پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز، بینکوں اور نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کے بچوں کو صرف زیادہ تنخواہ کی بنیاد پر ریزرویشن کے فوائد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی حکومت کے وزارت پرسوننیل نے سپریم کورٹ میں ایک وضاحتی درخواست دائر کی، جس میں اس فیصلے کو نافذ کرنے میں درپیش عملی چیلنجوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ’یو پی ایس سی‘ امتحان 2025 کے عمل پر اثر پڑ رہا ہے۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ یو پی ایس سی کے ذریعہ تجویز کردہ 958 امیدواروں کی ’سروس ایلوکیشن‘ کا عمل پرانے اصولوں کے مطابق آخری مرحلے میں ہے۔ اگر اس فیصلے کو گزشتہ تاریخ ’ریٹروسپیکٹو ایفیکٹ‘ سے نافذ کیا جاتا ہے تو پوری میرٹ لیسٹ، کیڈر ایلوکیشن (مثلاً آئی اے ایس، آئی پی ایس) اور ٹریننگ بری طرح متاثر ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے سے مرکز کے علاوہ 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں جاری تقرریوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے حکومتی تحفظات سننے کے بعد بھی عدالتی حکم نامے پر عمل درآمد روکنے سے انکار کرتے ہوئے تمام فریقین کو اپنا موقف واضح کرنے کا وقت دے دیا۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 17 ستمبر 2026 کو ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
