عاصم وقار سمیت کئی لیڈران کانگریس میں شامل، یوپی اسمبلی انتخاب سے قبل پارٹی کو ملی مضبوطی
عاصم وقار نے کہا کہ ’’اے آئی ایم آئی ایم میں رہنے کے بعد مجھے لگا کہ ہم بات تو بی جے پی اور اس کے نظریات سے لڑنے کی کرتے ہیں، لیکن زمین پر ان سے لڑ رہے ہیں جو بی جے پی کے خلاف ہیں۔‘‘

اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان عاصم وقار نے اتر پردیش اسمبلی انتخاب سے عین قبل کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان کے ساتھ کئی دیگر لیڈران نے بھی پارٹی کی رکنیت اختیار کی۔ اس سلسلے میں راجدھانی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر ’اندرا بھون‘ میں پریس کانفرنس کی گئی، جس میں یوپی کانگریس چیف اجئے رائے، یوپی انچارج راجندر پال گوتم اور کانگریس اقلیتی سیل کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی موجود تھے۔
کانگریس کی رکنیت اختیار کرنے کے بعد عاصم وقار نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’اے آئی ایم آئی ایم میں رہنے کے بعد مجھے لگا کہ ہم بات تو بی جے پی اور اس کے نظریات سے لڑنے کی کرتے ہیں، لیکن زمین پر ان سے لڑ رہے ہیں جو بی جے پی کے خلاف ہیں۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اگر ہم حقیقی معنوں میں محب وطن ہیں اور ایمانداری سے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں تو کانگریس کے ساتھ آنا ہوگا، جو مضبوطی کے ساتھ بی جے پی سے لڑ رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ملک سے محبت کرنے والے لوگ بی جے پی کی ملک مخالف حکومت کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، تاکہ ملک میں ایک سیکولر اور مفاد عامہ کی حکومت بنائی جا سکے۔‘‘
اس موقع پر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ عاصم وقار کی کانگریس میں شمولیت خوش آئند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں سید عاصم وقار کا کانگریس فیملی میں استقبال کرتا ہوں۔ آج راہل گاندھی کی ’محبت کی دکان‘ کے کارواں میں مزید ایک دوست ہمارے ساتھ جڑے ہیں۔ اس سے ہمارا کنبہ آج مزید مضبوط ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں ہمیشہ سے بی جے پی کے نظریات اور ان کی مدد کرنے والے غیر اعلانیہ ساتھیوں سے لڑتا رہا ہوں، اس لیے آنے والے وقت میں کئی دیگر ساتھی پارٹی سے جڑیں گے۔ ہم پوری طاقت سے لڑیں گے اور جیتیں گے۔‘‘
یوپی کانگریس صدر اجئے رائے نے بھی عاصم وقار کی کانگریس میں شمولیت کو بہت اہم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سید عاصم وقار جیسی مضبوط شخصیت نے کانگریس کی رکنیت اختیار کی ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اپنی حاضر جوابی کے ساتھ سماج کو ایک مثبت پیغام دینے کا کام کیا ہے۔ ان کی سوچ اور ان کے نظریات ہمارے لیڈر راہل گاندھی کے اس خواب سے جڑے ہیں، جو انھوں نے اس ملک کے لیے دیکھا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آج محبت کی دکان لگاتار بڑھتی جا رہی ہے اور 2027 میں اتر پردیش کے ہر گاؤں، ہر گلی میں کانگریس کا پرچم لہرائے گا۔‘‘
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یوپی کانگریس انچارج ایڈووکیٹ راجندر پال گوتم نے کہا کہ ’’راہل گاندھی کی قیادت میں پورے ملک میں تعلیم، روزگار، طلبا، خواتین اور محروم طبقات کے ایشوز پر تحریک چل رہی ہے۔ راہل گاندھی مضبوطی کے ساتھ ہر طبقہ کی آواز اٹھا رہے ہیں اور حکومت کو ہر محاذ پر لگاتار متنبہ کر رہے ہیں۔ اسی سے متاثر ہو کر مختلف پارٹیوں کے سینئر لیڈران کانگریس سے جڑ رہے ہیں۔‘‘ انھوں یہ بھی کہا کہ ’’ملک پہلے ہے، ملک سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ملک بچے گا تبھی طلبا، تعلیم، روزگار اور عوام سے جڑے ایشوز پر کام ہوگا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
