قومی خبریں

آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملہ میں بکرم سنگھ مجیٹھیا کو راحت، سپریم کورٹ نے منظور کی ضمانت

سپریم کورٹ نے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں بکرم سنگھ مجیٹھیا کو ضمانت دے دی۔ عدالت نے پرانے عرصے اور ایف آئی آر میں تاخیر کو اہم بنیاد قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں شرومنی اکالی دل کے رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر بکرم سنگھ مجیٹھیا کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے پیر کے روز اس معاملے میں انہیں ضمانت دے دی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ مجیٹھیا کو اس سے قبل سال 2022 میں این ڈی پی ایس یعنی منشیات سے متعلق ایک پرانے مقدمے میں بھی ضمانت مل چکی تھی۔ اس ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسے سال 2025 میں خارج کر دیا گیا تھا۔

Published: undefined

عدالت نے مزید کہا کہ آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات کا موجودہ معاملہ سال 2006 سے 2017 کے درمیان کی مدت سے متعلق ہے، جب کہ اس کی ایف آئی آر سال 2025 میں درج کی گئی۔ عدالت کے مطابق اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد ایف آئی آر درج ہونا ایک اہم پہلو ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے مانا کہ اس معاملے میں بھی مجیٹھیا کو ضمانت دی جا سکتی ہے۔

Published: undefined

قابلِ ذکر ہے کہ بکرم سنگھ مجیٹھیا کو 25 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل امرتسر میں ان کی رہائش گاہ سمیت مجموعی طور پر 25 مقامات پر پنجاب ویجیلنس ٹیم نے چھاپے مارے تھے۔ ان کارروائیوں کے دوران کئی ڈیجیٹل آلات، جائیداد سے متعلق دستاویزات اور مالی ریکارڈ ضبط کیے گئے تھے۔ اگلے دن یعنی 26 جون کو مجیٹھیا کو سات دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا، جسے بعد میں چار دن کے لیے مزید بڑھا دیا گیا۔ 6 جولائی سے وہ عدالتی تحویل میں تھے اور اس وقت نابها جیل میں بند تھے۔

Published: undefined

پنجاب ویجیلنس بیورو نے اس معاملے میں 22 اگست کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔ یہ چارج شیٹ 40 ہزار صفحات سے زائد پر مشتمل ہے اور اس میں دو سو سے زیادہ گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔ چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجیٹھیا کے اثاثے تقریباً 700 کروڑ روپے کے ہیں، جو ان کی معلوم آمدن سے کہیں زیادہ اور غیر قانونی ہیں۔ اس تفتیش کے سلسلے میں پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، اتر پردیش اور دہلی میں پندرہ مقامات کی جانچ کی گئی۔ رپورٹ میں اکالی دل اور بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

Published: undefined

یہ معاملہ دراصل سال 2013 میں سامنے آنے والی اس تفتیش سے جڑا ہے، جس میں تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے کے مصنوعی منشیات نیٹ ورک کا انکشاف ہوا تھا۔ اس وقت سابق ڈی ایس پی جگدیش سنگھ بھولا نے اپنی جانچ میں مجیٹھیا کا نام لیا تھا، تاہم بعد میں عدالت نے منشیات سے متعلق الزامات خارج کر دیے تھے۔ موجودہ مقدمہ منشیات نہیں بلکہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined