
اجمیر شریف
اجمیر شریف درگاہ میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے چادر بھیجنے کی روایت کو چیلنج دینے والی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ ’’یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس کی عدالت میں سماعت کی ضرورت ہو۔‘‘ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا دروازہ ’وِشو ویدک سناتن سنگھ‘ کے سربراہ جتیندر سنگھ بسین اور ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا نے کھٹکھٹایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’آئینی عہدے پر بیٹھے لوگوں کی جانب سے درگاہ پر چادر چڑھانا حکومتی غیرجانبداری کے اصول کے خلاف ہے۔‘‘ عرضی گزاروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو صوفی سنت خواجہ معین الدین چشتی کے 814 ویں عرس کے دوران چادر پیش کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
Published: undefined
سی جے آئی سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ نے اس معاملہ پر سماعت سے انکار کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے، جس پر عدالت فیصلہ دے۔ ججوں نے یہ بھی کہا کہ ’’چونکہ اس مرتبہ چادر پیش کی جا چکی ہے، اس لیے معاملہ بے معنیٰ ہو چکا ہے۔‘‘ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ اجمیر شریف درگاہ کو ہندو مندر بتانے والا ایک مقدمہ اجمیر کی سول عدالت میں زیر التوا ہے۔ ججوں نے واضح کیا کہ ان کے اس حکم کا اثر اس مقدمہ پر نہیں پڑے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’مقدمہ زیر التوا ہے، اسے آگے بڑھائیے۔ اس حکم کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اجمیر درگاہ پر وزیر اعظم کی جانب سے چادر پیش کرنے کی روایت طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ موجودہ حکومت بھی اس پر عمل کر رہی ہے۔ عرضی گزاروں نے کہا تھا کہ ’’اجمیر شریف درگاہ ایک مہندم شیو مندر کی جگہ پر بنی ہے۔ اس کا مقدمہ نچلی عدالت میں زیر التوا ہے۔ ایسے میں اس متنازعہ ڈھانچے پر حکومت کی جانب سے چادر بھیجنا منصفانہ سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined