کمبل تقسیم تقریب میں امتیازی سلوک پر ہنگامہ، بی جے پی لیڈر کو عوام کی سخت تنبیہ
بی جے پی لیڈر سکھبیر سنگھ جوناپوریا کو ہدایت دیتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ ’’اگر آپ اپنی حرکت سے باز نہیں آئیں گے تو آپ کو یہاں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور انتخاب میں سبق سکھایا جائے گا۔‘‘

ٹونک پارلیمانی حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جوناپوریا نے ایک عوامی تقریب میں کچھ ایسا کیا کہ راجستھان کا سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے۔ سابق رکن پالیمنٹ نے شرمناک حرکت کرتے ہوئے کمبل تقسیم کرنے کی تقریب میں مسلم خواتین سے کمبل واپس لے لیے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد راجستھان میں اس مسئلہ پر سیاست گرما گئی ہے۔ دوسری جانب مقامی لوگ بھی بی جے پی لیڈر کی مخالفت میں اتر گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم یہاں بھائی کی طرح رہتے ہیں اور اپنی گھٹیا ذہنیت سے ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں۔
مصنف اور مؤرخ اشوک کمار پانڈے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں کچھ لوگ بی جے پی لیڈر کے اس کام کو شرمناک قرار دیتے ہوئے معاشرے کو توڑنے والی حرکت سے باز آنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ہر ذات اور مذہب کے لوگ پیار سے رہتے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی جو ووٹ کے لیے تقسیم کی سیاست کر رہی ہے اسے اس سے باز آنا چاہیے۔ بی جے پی لیڈر سکھبیر سنگھ جوناپوریا کو ہدایت دیتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ اگر آپ اپنی حرکت سے باز نہیں آئیں گے تو آپ کو یہاں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور انتخاب میں سبق سکھایا جائے گا۔ ساتھ ہی لوگوں نے ان کے ذریعہ تقسیم کیے گئے کمبل کو بھی واپس کرنے کی بات کہی ہے۔
اشوک کمار پانڈے نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’جس نفرتی لیڈر نے مسلم خواتین سے کمبل چھین لیے تھے، اسے عوام نے جواب دے دیا ہے اس کے کمبل لوٹا کر۔ بس معاشرے میں یہی بھائی چارہ چاہیے، بھلے ہی تھوڑے سے لوگ آگے آ رہے ہیں لیکن اس کا اثر بہت بڑا ہے۔ محبت زندہ باد۔‘‘
دوسری جانب اس واقعے کو لے کر کانگریس نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس سمیت بی جے پی لیڈران پر تیکھا حملہ بولا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس لیڈران نے کہا کہ سکھبیر سنگھ جوناپوریا کے ذریعہ غریب مسلم خاتون سے کمبل واپس لینا اور توہین آمیز سلوک کرنا شرمناک ہے۔ دراصل سکھبیر سنگھ جونپوریا کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں وہ کمبل تقسیم کرنے کی ایک تقریب میں شامل ہونے آئی مسلم خواتین سے ان کا مذہب پوچھ کر کمبل واپس لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
بی جے پی لیڈر کی اس حرکت پر اپوزیشن پارٹی کانگریس نے بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ راجستھان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٹیکارام جولی نے الزام عائد کیا کہ سکھبیر سنگھ جونپوریا نے مسلم خاتون کی توہین کی اور اس کا مذہب پوچھ کر کمبل واپس لے لیا۔ واقعہ کے متعلق جولی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ نوائی تحصیل کریڑا بزرگ گاؤں تھے، جہاں انہوں نے کمبل تقسیم کرنے کے دوران خاتون کا نام جاننے کے بعد اسے دیا ہوا کمبل واپس لے لیا۔ جولی نے امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک عوامی نمائندہ جو رکن پارلیمنٹ جیسے عہدے پر فائز رہا ہو وہ اس طرح کی حرکت کرے تو یہ بالکل قابل مذمت ہے۔‘‘
مقامی باشندوں کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی دوپہر کمبل تقسیم کرنے کی تقریب میں پیش آیا۔ وہاں موجود کچھ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ شروع میں خواتین کو کمبل دیے گئے تھے لیکن بعد میں ان کے مذہب کا پتہ چلنے پر وہ واپس لے لیے گئے۔ وائرل ویڈیو کلپ میں جوناپوریا کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ جو لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کو گالیاں دیتے ہیں انہیں کمبل لینے کا حق ہی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کا ذاتی پروگرام تھا اور اس کا کسی سرکاری اسکیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سابق رکن پارلیمنٹ وزیر اعظم مودی کے 28 فروری کو اجمیر میں مجوزہ دورے کے لیے لوگوں کو مدعو کرنے گئے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔