آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک: 590 کروڑ روپے کا فراڈ، 14000 کروڑ روپے کا نقصان، جانیں پورا معاملہ اور آر بی آئی گورنر کا موقف
فراڈ کی خبر سامنے آتے ہی پیر کے کاروباری سیشن میں سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر شیئر فروخت کیے، جس سے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے شیئر 20 فیصد تک گر گئے۔

پرائیویٹ سیکٹر کے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چنڈی گڑھ شاخ میں 590 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس ایک واقعہ نے نہ صرف بینک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ شیئر بازار میں بھونچال لاتے ہوئے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ آخر یہ پورا فراڈ کیا ہے، اس کے پیچھے کون ہے اور اس پر بینک انتظامیہ سے لے کر ملک کے مرکزی بینک ’آر بی آئی‘ کا کیا موقف ہے؟ آئیے اسے ذیل میں تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
یہ دھوکہ دہی آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کی چنڈی گڑھ میں واقع ایک شاخ میں ہوئی ہے، جو بنیادی طور پر ہریانہ کی ریاستی حکومت سے منسلک اکاؤنٹس کے ایک گروپ تک محدود ہے۔ 18 فروری 2026 کو ہریانہ حکومت کے اداروں نے اپنے کھاتوں کے اصل بیلنس میں گڑبڑی پکڑی تھی۔ بینک کے مطابق شاخ کے کچھ ملازمین نے بیرونی لوگوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے اس واقعے کو انجام دیا ہے۔ ان لوگوں نے فرضی چیک اور جعلی اجازت ناموں کا استعمال کرتے ہوئے مینوئل طریقے سے کروڑوں روپے بینک سے باہر دیگر مستفیدین کے کھاتوں میں منتقل کر دیے۔
کارروائی کے طور پر بینک نے 4 مشتبہ افسران کو معطل کر دیا ہے اور پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ’کے پی ایم جی‘ کو آزاد فارنزک آڈیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ہریانہ حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک (اور اے یو اسمال فنانس بینک) کو اپنی مجاز بینکوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے اور اپنے تمام محکموں کو ان بینکوں میں موجود کھاتے بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اس خبر کے سامنے آتے ہی پیر کے کاروباری سیشن میں سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر شیئر فروخت کیے، جس سے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے شیئر 20 فیصد تک گر گئے۔ مارچ 2020 کے بعد یہ شیئر میں ہونے والی سب سے نمایاں کمی ہے ہے۔ اس ایک جھٹکے میں سرمایہ کاروں کی 14438 کروڑ روپے کی دولت (مارکیٹ کیپ) ختم ہو گئی۔ دھوکہ دہی کی یہ رقم (590 کروڑ روپے) اتنی بڑی ہے کہ یہ بینک کے تیسری سہ ماہی کے 503 کروڑ روپے کے مجموعی خالص منافع سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
ڈیمیج کنٹرول کرتے ہوئے بینک کے ایم ڈی اور سی ای او وی ویدیا ناتھن نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی ’سسٹمک فیلیور‘ نہیں ہے، بلکہ ایک شاخ اور ایک کسٹمر گروپ سے منسلک ایک الگ تھلگ واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک میں چیک کلیئر کرنے کے لیے ’میکر، چیکر اور آتھرائزر‘ جیسے ضروری کنٹرول سسٹم موجود ہیں، لیکن ملازمین اور بیرونی تھرڈ پارٹی کی مجرمانہ ملی بھگت کی وجہ سے یہ قوانین توڑے گئے۔ سی ای او نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا ہے کہ بینک کے پاس کافی سرمایہ موجود ہے اور گرتی ہوئی کریڈٹ لاگت کی وجہ سے منافع کی صورتحال بہتر ہے، اس لیے 590 کروڑ روپے کا یہ مالیاتی اثر بینک کے لیے قابل انتظام ہوگا۔ ریکوری کے لیے بینک نے دیگر بینکوں سے بھی مشتبہ کھاتوں میں موجود بیلنس کو منجمد کرنے کی درخواست کی ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) اس پورے واقعے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آر بی آئی گورنر سنجے ملہوترا نے پیر کو واضح کیا کہ صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اس واقعے سے کوئی سسٹمک رسک (نظامی خطرہ) پیدا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دھوکہ دہی صرف ہریانہ حکومت کے مخصوص کھاتوں تک ہی محدود ہے اور بینک کے دیگر صارفین محفوظ ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کا یہ معاملہ بینکنگ سیکٹر میں شاخ کی سطح کے کنٹرول اور کارپوریٹ گورننس پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ اور آر بی آئی نے اسے ایک محدود واقعہ قرار دیا ہے، لیکن سرکاری فنڈز کے انتظام کے حوالے سے بینک کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا اثر ادارہ جاتی کاروبار پر طویل عرصے تک دیکھا جا سکتا ہے۔ فی الحال مارکیٹ کی نظر فارنزک آڈٹ کے نتائج اور چوری شدہ رقم کی واپسی پر ٹکی ہوئی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔