مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب سے قبل ریاستی ووٹرس کو پی ایم مودی نے لکھا خط

وزیر اعظم نے خط میں لکھا ہے کہ کچھ ماہ میں ریاست کی قسمت طے ہوگی۔ آنے والی نسلوں کا مستقبل ووٹرس کے فیصلہ پر منحصر ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں مائیں و بہنیں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخاب قریب ہے۔ سبھی پارٹیوں نے ووٹرس کے درمیان پہنچ کر اپنے حق میں راہ ہموار کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اسی کوشش کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے ووٹرس کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط نے ریاست کی سیاسی گرمی میں اضافہ کر دیا ہے۔ خط میں پی ایم مودی نے ’اے بار بی جے پی سرکار‘ کا نعرہ دیتے ہوئے ریاست کی موجودہ حکومت پر براہ راست حملہ کیا ہے۔

اس خط میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’سونار بنگال‘ کا خواب دیکھنے والا ہر شہری آج مایوس ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں مائیں و بہنیں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہی ہیں اور تبدیلی اب لازمی ہے۔ اپنے خط کا آغاز پی ایم مودی نے ’جئے ماں کالی‘ سے کیا، اور لکھا کہ کچھ ہی مہینوں میں مغربی بنگال کی قسمت طے ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل ووٹرس کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔


پی ایم مودی نے اس خط میں بی جے پی کی مرکزی حکومت کا خاص طور سے ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پچھلے 11 سالوں میں ان کی حکومت نے عوامی فلاح اور مجموعی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ کسانوں، نوجوانوں اور خواتین کے چلائے گئے منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود مغربی بنگال کے تقریباً 5 کروڑ لوگ ’جَن دھن یوجنا‘ سے جڑے ہیں، ’سوچھ بھارت ابھیان‘ کے تحت 85 لاکھ بیت الخلاء بنائے گئے ہیں، ’اُجولا یوجنا‘ کے ذریعہ ایک کروڑ سے زیادہ کنبوں کو گیس کنکشن ملا ہے، ’اٹل پنشن یوجنا‘ سے 56 لاکھ سینئر شہری مستفید ہوئے ہیں، ’کسان سمان ندھی‘ کے تحت 52 لاکھ سے زائد کسانوں کو معاشی مدد دی گئی، چھوٹے تاجروں کو 2.82 لاکھ کروڑ روپے کے قرض دیے گئے۔

مغربی بنگال کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے لکھا ہے کہ آزادی کے بعد مغربی بنگال صنعتی ترقی میں آگے تھا، لیکن اب حالات فکر انگیز ہیں۔ انھوں نے 6 دہائیوں کی بدتر حکمرانی اور چاپلوسی والی سیاست کو ریاست کی خراب حالت کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ روزگار کی کمی میں نوجوان ہجرت کر رہے ہیں اور خواتین کی سیکورٹی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔


وزیر اعظم نے ریاستی مسائل کا خاص طور سے اپنے خط میں ذکر کیا ہے۔ انھوں نے غیر قانونی دراندازی اور خواتین کے خلاف تشدد کو سنگین فکر کا موضوع بتایا۔ انھوں نے کہا کہ سوامی وویکانند اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کی زمین آج انارکی میں مبتلا ہے۔ نقلی ووٹرس کا بھی پی ایم مودی نے خط میں ذکر کیا اور کہا کہ ریاست کو تاریکی سے باہر نکالنا ضروری ہے۔ اس خط کے آخر میں وزیر اعظم نے ووٹرس سے تبدیلی کے لیے آگے آنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ’آیوشمان بھارت‘ جیسے منصوبوں سے ملک کی کئی ریاستوں میں زندگی کی سطح بہتر ہوئی ہے اور مغربی بنگال بھی ترقی کا حقدار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے جب ریاست ترقی و اچھی حکمرانی کی راہ منتخب کرے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔