
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک بھر کے ہائی کورٹوں میں زیر التوا ضمانت کے مقدمات کی سماعت میں ہونے والی تاخیر پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے تمام ہائی کورٹس کو نئے رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کہا کہ ضمانت سے متعلق معاملات میں غیر ضروری تاخیر انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے مقدمات کی جلد اور باقاعدہ سماعت یقینی بنانے کے لیے مؤثر نظام تیار کیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے پیر کو اپنے احکامات میں کہا کہ ضمانت کے مقدمات کو ہر ہفتے یا کم از کم دو ہفتے میں ایک بار ضرور سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ تمام ہائی کورٹ خودکار لسٹنگ سسٹم تیار کریں تاکہ کسی بھی مقدمے کی سماعت صرف تاریخ پر تاریخ تک محدود نہ رہ جائے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت عرضی کی پہلی سماعت سے پہلے ہی ریاستی حکومت یا جانچ ایجنسی کو اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنی ہوگی۔ عدالت کے مطابق اس سے مقدمے کی موجودہ صورت حال سمجھنے میں آسانی ہوگی اور سماعت میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے گا۔ ساتھ ہی عرضی گزار کے وکیل کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ضمانت عرضی کی نقل پہلے ہی ایڈوکیٹ جنرل یا متعلقہ جانچ ایجنسی کو فراہم کرے۔
Published: undefined
عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ نئی ضمانت عرضیوں کو ہر دوسرے دن یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ایڈمیشن مرحلے پر نوٹس جاری کرنے کے پرانے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے مقدمات کے نپٹارے میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے، اس لیے اس عمل کو ختم کیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ جن ضمانت کے مقدمات کی سماعت کسی وجہ سے نہیں ہو پاتی، انہیں خودکار طریقے سے دوبارہ لسٹ کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی ضمانت عرضی کو طویل عرصے تک بغیر سماعت کے زیر التوا نہیں رکھا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ تمام ہائی کورٹوں کو ضمانت کے مقدمات کو نمٹانے کے لیے ایک واضح ٹائم لائن مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Published: undefined
عدالت نے فارنسک سائنس لیب کی رپورٹ میں ہونے والی تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ متاثرین سے جڑے مقدمات میں جانچ افسران کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا، کیونکہ جانچ میں سستی یا لاپروائی کا فائدہ ملزم کو ضمانت کی صورت میں مل سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے زور دے کر کہا کہ ہائی کورٹس، جانچ ایجنسیاں اور حکومتیں مل کر ایسا مؤثر نظام تیار کریں جس سے ایک طرف متاثرین کے حقوق محفوظ رہیں اور دوسری جانب ضمانت مقدمات کا بروقت نپٹارا بھی ممکن ہو سکے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined