تھلاپتی وجئے نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اسمبلی رکنیت کا لیا حلف
وجئے کی حلف برداری کے فوراً بعد ٹی وی کے لیڈر این آنند نے ٹی نگر حلقہ سے رکن اسمبلی کے طور پر حلف لیا، جبکہ آدھو ارجن نے ولیواکم حلقہ سے رکن اسمبلی کے طور پر حلف لیا۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے ٹھیک ایک دن بعد پیر کے روز ٹی وی کے سربراہ سی جوزف وجئے نے اسمبلی کے پہلے اجلاس کے دوران رکن اسمبلی کے طور پر حلف لے لیا۔ نو منتخب اراکین اسمبلی کے لیے حلف برداری کی تقریب اسمبلی ہال میں پروٹیم اسپیکر کرپیّا کی نگرانی میں منعقد ہوئی، جنہوں نے اراکین کو حلف دلایا۔ اس کارروائی کے ساتھ ہی حالیہ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے بعد نئی اسمبلی کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔
وجئے نے پیرمبور اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی کے طور پر حلف لیا۔ انہوں نے اسمبلی انتخاب میں پیرمبور اور تریچی ایسٹ، دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد پیرمبور سیٹ اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پیرمبور سے نمائندہ بنے رہنے کے اپنے فیصلے کے بعد انہوں نے تریچی ایسٹ نشست سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد وہاں ضمنی انتخاب کی راہ ہموار ہو گئی۔
وجئے کی حلف برداری کے فوراً بعد ٹی وی کے لیڈر این آنند نے ٹی نگر حلقہ سے رکن اسمبلی کے طور پر حلف لیا، جبکہ آدھو ارجن نے ولیواکم حلقہ سے رکن اسمبلی کے طور پر حلف لیا۔ حلف برداری کے وقت اسمبلی میں کافی جوش و خروش کا ماحول تھا کیونکہ بیشتر نو منتخب اراکین پہلی بار ایوان میں پہنچے تھے۔ ٹی وی کے نے اپنے پہلے ہی اسمبلی انتخاب میں بڑی کامیابی حاصل کر کے اقتدار حاصل کر لیا۔ 234 رکنی اسمبلی میں ٹی وی کے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور بعد میں اپنے اتحادیوں کی حمایت سے حکومت تشکیل دی۔
اسمبلی اجلاس کے دوران ایوان سے خطاب کرتے ہوئے پروٹیم اسپیکر کرپیّا نے نو منتخب اراکین کو مبارکباد دی اور ان سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود نئی قیادت نے چیلنجوں کا سامنا کیا اور عوام کا اعتماد حاصل کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا ’’عوام نے ہمیں ان کی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے۔ ہر رکن کو اس ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے اور لوگوں کے لیے پوری دیانت داری کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔‘‘کرپیّا نے مزید کہا کہ نئی حکومت کو پیریار، کامراج، ویلو ناچیار اور انجلائی امّال جیسے لیڈران کے نظریات اور اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کام کرنا چاہیے، اور ساتھ ہی حکمرانی میں عقلیت پسندی و سماجی انصاف کی قدروں کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔
