’جہاں ضمانت نہیں دینی چاہیے، وہاں دے رہے ہیں‘، جہیز قتل کے ملزم کی ضمانت رد کرتے ہوئے ہائی کورٹ پر سپریم کورٹ برہم

جسٹس پاردی والا نے کہا کہ ’’ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہائی کورٹ کو کیا ہو گیا ہے۔ جن معاملات میں ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، وہاں ضمانت دی جا رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ نے جہیز کے لیے قتل کے ایک معاملہ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ملزم کو ضمانت دیے جانے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ عدالت نے ملزم شوہر کی ضمانت فوری طور پر منسوخ کرتے ہوئے اسے ایک ہفتے کے اندر سرنڈر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے کا ٹرائل ایک سال کے اندر مکمل کیا جائے۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس وجے بشنوئی کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔ متوفیہ کے والد نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ عدالت نے سماعت کے دوران پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی جس میں متوفیہ کی گردن کے قریب چوٹ کے نشانات پائے گئے تھے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ مشتبہ حالات میں ہوئی موت کے معاملے میں ضمانت کیسے دی گئی۔


سماعت کے دوران جسٹس پاردی والا نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شادی کے 7 سال کے اندر ہوئی موت اور سنگین الزامات کے باوجود ضمانت دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ جسٹس پاردی والا نے کہا کہ ’’ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہائی کورٹ کو کیا ہو گیا ہے۔ جن معاملات میں ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، وہاں ضمانت دی جا رہی ہے۔‘‘ عدالت نے ملزم کے وکیل سے پوچھا کہ جب بیوی کی گھر کے اندر مشتبہ حالت میں موت ہوئی اور جسم پر بیرونی چوٹیں تھیں، تو اس کی کیا وضاحت ہے؟ جب وکیل نے یہ دلیل دی کہ ملزم 18 ماہ سے جیل میں ہے، تو عدالت نے واضح کیا کہ یہ قتل کا معاملہ ہے اور خاتون کا گلا گھونٹا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ عدالت نے اپنے حکم میں درج کیا کہ شادی فروری 2019 میں ہوئی تھی اور بیوی کی مشتبہ موت جولائی 2024 میں ہوئی تھی۔ قانون کے مطابق اگر شادی کے 7 سال کے اندر خاتون کی پراسرار طریقے سے موت ہوتی ہے، تو اسے جہیز کے لیے قتل کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کو ضمانت دیتے وقت انڈین ایویڈنس ایکٹ کی دفعہ 113بی کے تحت قانونی مفروضے کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر چوٹ کے نشان واضح طور پر درج تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فی الحال ٹرائل چل رہا ہے اور صرف ایک گواہ کا بیان ہوا ہے، اس لیے وہ کیس کے میرٹ پر مزید تبصرہ نہیں کرے گی۔ حالانکہ عدالت نے تسلیم کیا کہ موجودہ حالات میں ضمانت کا حکم قانونی طور پر درست نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔