قومی خبریں

مہوبہ اسٹیڈیم میں بیڈمنٹن کھیل رہے سدھیر کی ہارٹ اٹیک سے موت، میدان میں افراتفری

سدھیر کو زمین پر گرتے دیکھ کر پورے اسٹیڈیم میں کھلبلی مچ گئی۔ ساتھی کھلاڑی آناً فاناً انہیں اٹھاکر ضلع اسپتال لے گئے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہے۔ ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

علامتی تصویر / آئی اے این ایس

 

اترپردیش کے مہوبہ واقع اسٹیڈیم میں اس وقت افراتفری مچ گئی جب بیڈمنٹن کھیل رہے 58 سالہ سدھیر گپتا کی اچانک موت ہوگئی۔ دل دہلا دینے والا یہ پورا واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ محض 5 سیکنڈ کے اندر موت نے سدھیر کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ واقعہ کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے سدھیر کو مردہ قرار دے دیا۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق شہر کے پستور گلی کے رہنے والے 58 سالہ سدھیر گپتا معمول کے مطابق بیڈمنٹن کھیلنے ڈسٹرکٹ اسٹیڈیم پہنچے تھے۔ ویڈیو میں سدھیر اپنے ساتھیوں کے ساتھ پوری توانائی کے ساتھ کھیلتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے 3 شاٹس کھیلے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تیسرے شاٹ کے ٹھیک 11 سیکنڈ بعد سدھیر کو اچانک بے چینی محسوس ہوئی۔ ان کے قدم لڑکھڑائے اور سینے پر ہاتھ رکھ کر زمین پر گرپڑے ۔

Published: undefined

اس سے پہلے کہ وہاں موجود ان کے ساتھی کھلاڑی کچھ سمجھ پاتے یا ان کی مدد کرتے، سدھیر ہی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ یہ اچانک دل کا دورہ اتنا جان لیوا تھا کہ انہیں سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ سدھیر کو زمین پر گرتے دیکھ کر پورے اسٹیڈیم میں کھلبلی مچ گئی۔ ساتھی کھلاڑی آناً فاناً انہیں اٹھاکر ضلع اسپتال لے گئے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہے۔ ڈاکٹروں نے جانچ کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔

Published: undefined

ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ سائیلنٹ ہارٹ اٹیک کا معاملہ ہو سکتا ہے جس نے پلک جھپکتے ہی ایک خوش مزاج اور خوش اخلاق شخص کی جان لے لی۔ اس افسوسناک خبر کے بعد سدھیر گپتا کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس واقعہ کا ویڈیو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جو ہمیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ فٹنس وابستگیوں کے باوجود انسانی زندگی کتنی غیر یقینی ہو سکتی ہے۔ کھیل کا میدان جو صحت بنانے کی جگہ ہے، وہاں سے اٹھی اس لاش نے ہر کسی کو محو حیرت کردیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined