امریکہ-ایران امن معاہدہ سے ناراض اسرائیل بغاوت پر آمادہ، 2 اسرائیلی وزراء نے دیے سخت بیانات
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر لکھا کہ ’’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا۔ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت نہیں دیتا۔‘‘

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کی خبر سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی ہے، لیکن اسرائیل پریشان نظر آ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بجنامن نیتن یاہو نے اس معاہدے (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، لیکن ان کی حکومت کے بعض اراکین نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ اسرائیل اور پوری آزاد دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے ہماری سلامتی یقینی نہیں بنتی۔‘‘
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے اس سے قبل اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں ایک پیغام جاری کیا تھا، جو موجودہ سیاسی حالات میں بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس بیان کا ایران کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے یا لبنان میں جاری تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن ماہرین اس کے الگ الگ معنی نکال رہے ہیں۔ دراصل انہوں نے ٹرمپ کو ان کی 80ویں سالگرہ پر مبارک باد پیش کی تھی، حالانکہ اس سے اسرائیل کے تئیں امریکی صدر ٹرمپ کا رویہ کچھ خاص تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمہ کے لیے طویل مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں، جس پر 19 جون کو جنیوا میں پاکستان کی ثالثی میں دستخط کیے جائیں گے۔ فریم ورک پر اتفاق رائے ہونے کے بعد خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر کے لیدران دونوں ملکوں کو مبارک باد دے رہے ہیں اور مستقبل میں امن کی امید ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم اس جنگ کا مرکز اور بنیادی سبب سمجھے جانے والے ملک اسرائیل کے وزیر اعظم کا اس حوالے سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
گزشتہ ماہ اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی ری فیولنگ طیاروں کی مسلسل موجودگی کے باعث 24 لاکھ سے زیادہ فضائی ٹکٹ منسوخ ہو سکتے ہیں۔ تاہم ٹرانسپورٹ وزیر میری ریگیو نے اتوار کے روز ٹھیک اس وقت وزیر اعظم نیتن یاہو سے ان طیاروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، جب فریم ورک معاہدے کی خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے سب سے پہلے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا اور اپنے ٹیلی گرام چینل پر لکھا کہ ’’ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا۔ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت نہیں دیتا۔ ہمیں حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’ہمیں اس زمین کے ایک انچ حصے سے بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جس پر ہمارے فوجیوں نے قبضہ کیا ہے اور جسے دہشت گردی کے ڈھانچے سے پاک کرایا گیا ہے۔‘‘
نیتن یاہو حکومت کے ان 2 وزراء کے بیانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے پر اسرائیل کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ اگر اسرائیل لبنان پر حملے بند نہیں کرتا اور اپنی فوج واپس نہیں بلاتا تو اس جنگ بندی کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ حزب اللہ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
