قومی خبریں

طلبا کی خودکشی، پیپر لیک، ایچ-1 بی ویزا... کئی اہم ایشوز پر کانگریس نے مودی حکومت کو گھیرا

پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جیسے جیسے چھاتروں کی گونج شہر بہ شہر آگے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے بی جے پی حکومت کے بہانے، دھمکیاں اور اسے روکنے کے لیے اختیار کیے جانے والے ہتھکنڈے بھی بڑھ رہے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا / ویڈیو گریب</p></div>

پون کھیڑا / ویڈیو گریب

 

کانگریس میڈیا شعبہ کے قومی صدر اور راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے آئی آئی ٹی بامبے اور جھانسی میں طلبا کی خودکشی، پیپر لیک، مغربی بنگال میں کانگریس امیدوار کی گرفتاری اور امریکہ میں ایچ-1 بی ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی فیس معاملوں پر مرکز کی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے مودی حکومت کو خاص طور سے طلبا کے لیے انتہائی مضر قرار دیا اور کہا کہ اس کی پالیسیاں بہت نقصان پہنچانے والی ہیں۔ یہ تبصرہ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کیا ہے۔

اس پوسٹ میں پون کھیڑا نے راہل گاندھی کے پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ سے متعلق کچھ اہم معلومات بھی سامنے رکھیں۔ یہ پروگرام اندور میں منعقد ہو رہا ہے، جس کے بارے میں حریفوں کے ذریعہ غلط تشہیر کیے جانے پر انھوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ لوگ اندور میں پوسٹر بازی کرتے رہیں گے۔ ہم اصل مسائل اٹھا کر آگے نکل جائیں گے۔ ہم نوجوانوں کے لیے انصاف کی بات کر رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’ان کو کرسی چھوڑنی پڑے گی۔ نوجوانوں کے ساتھ اس وقت کئی بڑے مسائل ہیں۔ نوجوان نسل کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔‘‘

پون کھیڑا نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جیسے جیسے چھاتروں کی گونج شہر بہ شہر آگے بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے بی جے پی حکومت کے بہانے، دھمکیاں اور اسے روکنے کے لیے اختیار کیے جانے والے ہتھکنڈے بھی بڑھ رہے ہیں، جس میں اب مدھیہ پردیش حکومت کی باری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’راجیو گاندھی کے قتل کا حوالہ دینے سے لے کر کوچنگ سنٹرس پر حلف نامے پر دستخط کرنے کا دباؤ بنانے تک (جس میں پروگرام میں شامل ہونے والے طلبا کی حفاظت کے لیے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے) بی جے پی جو بھی کر رہی ہے، اس میں گھبراہٹ دکھائی دے رہی ہے۔ وہ گھبرائی ہوئی ہے کہ طلبا اکٹھا ہو کر اپنی آواز اٹھائیں گے، لیکن ڈرانے دھمکانے سے ان کی آواز دبائی نہیں جا سکے گی۔‘‘

کانگریس لیڈر نے ویاپم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’پیپر لیک کی جننی بی جے پی ہے۔ سب سے پہلا تجربہ ’ویاپم‘ کے ذریعے مدھیہ پردیش میں کیا تھا۔ اب انہوں نے ویاپم ماڈل پورے ملک میں نافذ کر دیا ہے۔ آج بھی 2 خودکشیاں ہوئی ہیں۔ ایک ممبئی آئی آئی ٹی میں ہوئی ہے، دوسری جھانسی میں ہوئی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک کے بعد ایک نوجوان مایوسی کا شکار ہو کر خودکشی کر رہا ہے، کیونکہ اسے اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے اور راہل گاندھی نوجوانوں کو روشنی دکھانے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘

ایچ-1 بی ویزا معاملہ پر پون کھیڑا نے کہا کہ ’’مودی جی نے سب کچھ ٹرمپ کے کہنے پر کیا۔ ٹرمپ کے کہنے پر ایم آئی ڈی لگایا، پھر بھی ہر روز چوٹ لگ رہی ہے۔ ایچ-1 بی ویزا کی فیس ایک سال کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ ہندوستان میں نوجوانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ یہ خارجہ پالیسی کی مکمل طور پر ناکامی ہے۔‘‘ وہ مغربی بنگال میں جاری سیاسی ہلچل کا بھی ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی مغربی بنگال میں کسی بھی طرح سے الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ وہ الیکشن ہار جاتے ہیں تو رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی کو چرا لیتے ہیں، بی جے پی چوری اور ڈاکے کی ماہر ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔