
فائل فوٹو
مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے سبھی سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں صبح کے وقت دعائیہ اجلاس کے دوران ’وندے ماترم‘ گیت گانا لازمی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے جاری سرکاری حکم کے مطابق یہ بندوبست فوری اثر سے نافذ ہوگا اور ریاست کے سبھی طلبا کو اسکول شروع ہونے سے پہلے دعائیہ اجلاس میں قومی گیت گانا ہوگا۔ محکمہ نے تمام اسکولوں کے سربراہوں کو احکامات پر سختی سے عمل کرنے کو کہا ہے۔
Published: undefined
13 مئی کو جاری حکم میں محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ کلاسیں شروع ہونے سے پہلے صبح کے دعائیہ جلسے میں ’وندے ماترم‘ گیت کو گانا لازمی بنایا جائے، یعنی ریاست کے سبھی اسکولوں میں تمام طلبا قومی گیت گائیں۔ افسران کے مطابق اسکولوں کو اس پر عمل کرنے کا ویڈیو ریکارڈ بھی محفوظ رکھنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ عمل درآمد کا ثبوت فراہم کیا جا سکے۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اسمبلی احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے پیر سے ریاست بھر کے تمام اسکولوں میں ’وندے ماترم‘ کو دعائیہ گیت کے طور پر شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں آج نابنا جا کر اس بارے میں آگاہ کروں گا۔‘‘
Published: undefined
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مرکزی حکومت قومی علامتوں کے احترام سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ مرکز نیشنل آنر ایکٹ 1971 میں ترمیم کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت ’وندے ماترم‘ گانے میں رکاوٹ ڈالنا قابل سزا جرم بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے میں مغربی بنگال حکومت کے اس اقدام کو سیاسی اور ثقافتی دونوں سطحوں پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ اب تک ریاست کے اسکولوں میں بنیادی طور سے قومی گیت ’جن گن من‘ گایا جاتا تھا جسے گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور نے لکھا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ کچھ برسوں میں ریاست کی سابق ترنمول کانگریس حکومت نے 1905 میں بنگال کی تقسیم کی مخالفت کے دوران ٹیگور کے لکھے گئے ’بانگلار ماٹی بانگلار جل‘ کو ریاستی گیت کے طور پر شامل کیا تھا۔ اب بنکم چندر چٹوپادھیائے کا تحریر کردہ ’وندے ماترم‘ بھی دعائیہ اجلاس کا مستقل حصہ بنے گا۔
Published: undefined
اس فیصلے کے بعد کچھ اساتذہ تنظیموں اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے عملی سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول اسمبلی میں قومی ترانہ، ریاستی گیت اور قومی گیت تینوں کو کس دوران اور کتنی دیر گایا جائے گا، اس پر ابھی اور وضاحت کی ضرورت ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined