حیرت انگیز! بہار کی ایک یونیورسٹی نے امتحان سے پہلے ہی جاری کر دیا ریزلٹ، طلبا فکر مند

طالب علم اس الجھن میں ہے کہ وہ باقاعدہ امیدوار کے طور پر امتحان دے یا پھر ڈیجی لاکر پر موجود مارک شیٹ کو ہی آفیشیل ریزلٹ تصور کرے۔

<div class="paragraphs"><p>امتحان کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

لوک نایک جے پرکاش نارائن کے نام پر قائم بہار کی واحد ’جے پرکاش یونیورسٹی‘ (جے پی یو) کا امتحان سسٹم سرخیوں میں ہے۔ معاملہ یونیورسٹی کے ڈیجیٹل امتحان سسٹم سے متعلق ہے، جہاں ایک طالب علم کی تیسرے سمسٹر کی مارک شیٹ امتحان ہونے سے پہلے ہی ’ڈیجی لاکر‘ پر دستیاب ہو گئی۔ اس واقعے نے طلبا، والدین اور اساتذہ کے درمیان فکر پیدا کر دی ہے۔

یہ معاملہ گنگا سنگھ کالج، چھپرہ کے بی اے تیسرے سمسٹر (تعلیمی سیشن 28-2024) کے طالب علم کنچن کمار سے متعلق ہے۔ منگل کے روز وہ تیسرے سمسٹر کے امتحان کا آن لائن فارم بھرنے کے لیے کالج پہنچا۔ دستاویزات کی جانچ کے دوران جب اس نے ڈیجی لاکر کھولا تو وہاں اس کے نام سے’بیچلر آف آرٹس، سیمسٹر 3، اپریل 2025 امتحان (سیشن 28-2024‘ کی مارک شیٹ پہلے سے موجود تھی۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مارک شیٹ میں طالب علم کا نام، رول نمبر، رجسٹریشن نمبر اور کالج کا نام درست درج تھا۔ یہی نہیں، نتیجے میں اسے ’پروموٹ‘ بھی قرار دیا گیا تھا۔


دوسری جانب یونیورسٹی نے اسی طالب علم کا تیسرے سمسٹر کا امتحان فارم بغیر کسی اعتراض کے قبول بھی کر لیا ہے اور مقررہ امتحان فیس بھی وصول کر لی ہے۔ اب طالب علم الجھن میں ہے کہ وہ باقاعدہ امیدوار کے طور پر امتحان دے یا پھر ڈیجی لاکر پر موجود مارک شیٹ کو ہی آفیشیل ریزلٹ تصور کرے۔ متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ ڈیجی لاکر مرکزی حکومت کا سرکاری ڈیجیٹل دستاویزاتی پلیٹ فارم ہے۔ ایسے میں اگر وہاں غلط مارک شیٹ اپلوڈ ہوتی ہے تو یہ صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں بلکہ طلبا کے مستقبل سے جڑا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

تعلیم کے شعبہ سے وابستہ افراد بھی اس معاملے میں فکر مند نظر آ رہے ہیں۔ ایک شخص کا کہنا ہے کہ اگر ڈیجی لاکر پر موجود مارک شیٹ یونیورسٹی کا سرکاری ریکارڈ ہے تو پھر اسی طالب علم سے امتحان فارم بھروانا اور فیس وصول کرنا ایک سنگین انتظامی کوتاہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ مارک شیٹ تکنیکی غلطی سے اپلوڈ ہوئی ہے تو یہ یونیورسٹی کے ڈیجیٹل امتحان نظام کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔ ایسی غلطیاں مستقبل میں ڈگری کی تصدیق، ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کے دوران طلبا کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔


اس پورے معاملے پر جے پرکاش یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے فی الحال کوئی آفیشیل بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ طلبا اور والدین یونیورسٹی سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امتحان سے پہلے نتیجہ کیسے جاری ہو گیا۔ اب سب کی نظریں یونیورسٹی کی وضاحت اور آئندہ کی کارروائی پر مرکوز ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔