اپارٹمنٹ مالکان کے لیے خوشخبری، کرناٹک حکومت کی نیا قانون لانے کی تیاری
کرناٹک حکومت اپارٹمنٹ مالکان کے حقوق کے تحفظ، مشترکہ سہولیات کی ملکیت، مالی شفافیت، تنازعات کے فوری حل اور پرانی عمارتوں کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے نیا قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے

بنگلورو: کرناٹک حکومت نے ریاست میں اپارٹمنٹ مالکان کے حقوق کے تحفظ اور اپارٹمنٹ کے انتظامی نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت موجودہ قوانین کو ختم کر کے ایک جامع قانونی نظام متعارف کرایا جائے گا، جس کا مقصد اپارٹمنٹ میں رہنے والے لاکھوں افراد کو بہتر قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ریاستی حکومت کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کرناٹک، خصوصاً بنگلورو میں اپارٹمنٹ کلچر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صرف بنگلورو میں 25 ہزار سے زائد اپارٹمنٹ عمارتیں موجود ہیں، جن میں تقریباً 25 سے 30 لاکھ فلیٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ ایک برس کے دوران بنگلورو شہری علاقوں اور اس کے اطراف میں تقریباً 60 ہزار سے 75 ہزار فلیٹ رئیل اسٹیٹ ضابطہ جاتی اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کیے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں اپارٹمنٹ اب رہائش کی ایک اہم شکل بن چکے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت نافذ قوانین 1972 میں بنائے گئے تھے، جب ریاست میں اپارٹمنٹ کلچر ابتدائی مرحلے میں تھا۔ وقت کے ساتھ ان قوانین میں متعدد عملی خامیاں سامنے آئی ہیں، جن کی وجہ سے اپارٹمنٹ مالکان، بلڈروں اور رہائشی انجمنوں کو مختلف قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نشانہ پر مذہبی آزادی...اے جے فلپ
موجودہ قوانین میں مشترکہ مقامات اور سہولیات کی ملکیت، زمین میں غیر منقسم حصے کی منتقلی، اپارٹمنٹ مالکان کی انجمنوں کے قیام اور ان کے اختیارات، دیکھ بھال کے اخراجات اور فنڈز کی شفافیت، قانونی تنازعات کے بروقت تصفیے اور خستہ حال یا پرانی عمارتوں کی ازسرِ نو تعمیر جیسے معاملات کے حوالے سے واضح اور مؤثر دفعات کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی معاملات میں طویل قانونی تنازعات پیدا ہوئے ہیں اور گھر خریداروں اور تعمیراتی کمپنیوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
مجوزہ قانون کے تحت اپارٹمنٹ مالکان کے حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ سہولیات اور مقامات پر ان کی ملکیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ اپارٹمنٹ کے اندراج، انتظام و انصرام، دیکھ بھال کے فنڈز میں شفافیت اور مالی جوابدہی کے لیے واضح قانونی طریقۂ کار وضع کیا جائے گا۔ حکومت تیز رفتار تنازعات کے حل اور پرانی و غیر محفوظ عمارتوں کی ازسرِ نو تعمیر کے لیے بھی جامع قانونی فریم ورک متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ قانون کو حتمی شکل دینے سے قبل مختلف متعلقہ فریقوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ اسی سلسلے میں بنگلورو میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں ماہرین، اپارٹمنٹ مالکان اور دیگر متعلقہ افراد کی تجاویز حاصل کی جائیں گی تاکہ مجوزہ قانون کو عوامی ضروریات اور موجودہ شہری حقائق کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ نئے قانون سے توقع کی جا رہی ہے کہ ریاست میں اپارٹمنٹ میں رہنے والے لاکھوں شہریوں کو زیادہ قانونی تحفظ، شفاف انتظامی نظام اور بہتر رہائشی سہولیات میسر آئیں گی۔
