قومی خبریں

’پنجاب میں کم ہو رہی سکھوں کی آبادی، چوتھے بچے کے لیے 40 ہزار روپے دے حکومت‘، بی جے پی لیڈر نے وزیر اعلیٰ کو لکھا خط

جگموہن نے کہا کہ زیادہ بچے ہونا کسی سماج کی پسماندگی کی نشانی نہیں مانا جانا چاہئے، کئی ترقی یافتہ ملک بھی اب کم ہوتی آبادی کے حوالے سے فکرمند ہیں اور زیادہ بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو&nbsp;<a href="https://x.com/JagmohanSRaju">@JagmohanSRaju</a></p></div>

فوٹو @JagmohanSRaju

 

پنجاب بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور سابق آئی اے ایس افسر جگموہن راجو نے ریاست میں سکھ آبادی کے سست اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں سکھ آبادی کم ہو رہی ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر خاص اسکیم نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے متاثر کیا جاسکے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے بھی 4 بچوں والے خاندانوں کو نقد مراعات دینے کی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔

Published: undefined

جگموہن راجو نے اپنے خط میں کہا ہے کہ اگر کسی سکھ خاندان میں تیسرے بچے کی ولادت ہوتی ہے تو حکومت اسے حوصلہ افزائی کے طور پر30 ہزار روپئے دے، وہیں چوتھے بچے کی ولادت پر 40 ہزار روپئے دیئے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے سکھ طبقے میں آبادی بڑھانے کو فروغ ملے گا۔ جگموہن نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت نے بھی حال ہی میں ایسی اسکیم شروع کی ہے۔ اس لئی پنجاب حکومت کو بھی اس سمت میں قدم اٹھانا چاہئے۔

Published: undefined

بی جے پی لیڈر نے وزیر اعلیٰ مان کو لکھے اپنے خط کوعام بھی کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے کہا کہ سکھ برادری ہندوستان میں آئینی طور پر تسلیم شدہ اقلیت ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ان کی شرح پیدائش سب سے کم ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ سکھوں کی آبادی میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب میں سکھ آبادی کا حصہ 1991 میں 62.95 فیصد سے کم ہو کر 2011 کی مردم شماری میں 57.69 فیصد رہ گیا اور یہ رجحان جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں دوسری ریاستوں سے روزگار کے لئے بڑی تعداد میں لوگ آرہے ہیں جس کا اثر ریاست کی آبادی کے اعداد وشمار پر پڑ رہا ہے۔ جگموہن نے کہا کہ زیادہ بچے ہونا کسی سماج کی پسماندگی کی نشانی نہیں مانا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ملک بھی اب کم ہوتی آبادی کے حوالے سے فکر مند ہیں اور زیادہ بچے پیدا کرنے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں منتخب کئے گئے نمائندوں کی تعداد آبادی کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں پنجاب کی آبادی میں اضافہ دوسری ریاستوں کے مقابلے کم رہتا ہے تو مستقبل میں ریاست کے جمہوری اداروں میں حصہ داری بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

Published: undefined

غور طلب ہے کہ حال ہی میں مرکزی حکومت کی حد بندی سے متعلق مسائل کے بعد آبادی اور نمائندگی پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ تمل ناڈو اور آندھرا پردیش جیسی ریاستیں بھی آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔ بتا دیں کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے تیسرا بچہ پیدا کرنے والے جوڑوں کو 30ہزار روپے اور چوتھا بچہ پیدا کرنے والے کو 40 ہزار روپے کی ترغیبی رقم دینے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined