منی پور: سیناپتی میں آسام رائفلز کے کیمپ پر بھیڑ کا حملہ، کئی گاڑیوں کو پہنچایا گیا نقصان

تشدد کے دوران ہجوم نے آسام رائفلز کی کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور انہیں نقصان پہنچایا۔ ایک ہلکی گاڑی کو آگ بھی لگا دی گئی، جبکہ 2 ٹرک الٹ کر شدید نقصان پہنچایا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>منی پور میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)</p></div>
i

منی پور کے سیناپتی شہر میں مشتعل ہجوم نے آسام رائفلز کے کیمپ پر حملہ کر دیا۔ اس واقعہ سے متعلق حکام نے بدھ کو بتایا کہ ہجوم نے پتھراؤ، آگ زنی اور توڑ پھوڑ کی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ حملہ مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف جاری سیکورٹی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مقصد سے کیا گیا۔ تشدد کے دوران ہجوم نے آسام رائفلز کی کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور انہیں نقصان پہنچایا۔ ایک ہلکی گاڑی کو آگ بھی لگا دی گئی، جبکہ 2 ٹرک الٹ کر شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس واقعہ میں ایک شہری کی کار کو بھی مبینہ طور پر نذر آتش کر دیا گیا۔

دفاعی ترجمان نے بتایا کہ ماکوئلونگڈی علاقہ میں، جو اوکلونگ میں واقع نامزد این ایس سی این (آئی ایم) کیمپ سے تقریباً 2 کلومیٹر مغرب میں ہے، مسلح کیڈرز کی موجودگی سے متعلق قابل اعتماد خفیہ اطلاع ملنے کے بعد آسام رائفلز نے علاقے میں غلبہ برقرار رکھنے کے لیے گشت اور تلاشی مہم شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے اشارہ ملا تھا کہ مسلح کیڈر مقررہ کیمپوں سے باہر ہتھیاروں اور وردیوں کے ساتھ گھوم رہے تھے، جو قائم شدہ جنگ بندی کے ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ساتھ ہی جنگ بندی نگرانی گروپ (سی ایف ایم جی) کو ان مبینہ خلاف ورزیوں سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا اور اس سے متعلق سیکورٹی خدشات سے بھی مطلع کیا گیا۔


ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران ماکوئلونگڈی اور اوکلونگ دیہات کی جانب بڑھنے والی آسام رائفلز کی ٹکڑیوں کو بڑی تعداد میں لوگوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، نے روک لیا۔ آسام رائفلز کے اہلکاروں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی نمائندوں سے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ کارروائی کا مقصد صرف سیکورٹی کو یقینی بنانا اور علاقے میں امن برقرار رکھنا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر کوئی بھی ٹکڑی کسی گاؤں میں داخل نہیں ہوگی۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب منگل کی شب 9 بجے سیناپتی شہر میں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے اور آسام رائفلز کے کیمپ کی طرف مارچ کرنے کی اطلاع ملی۔ آسام رائفلز کی ٹکڑیوں کے واپس لوٹنے کے باوجود رات تقریباً 9.30 بجے بڑا ہجوم کیمپ تک پہنچ گیا اور پتھراؤ، سرکاری املاک میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی کوشش کی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے سیناپتی پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کو فوری طور پر تعینات کیا گیا۔ بعد میں واپس لوٹتے وقت ہجوم کے ایک حصے نے آسام رائفلز کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ ایک ہلکی گاڑی کو آگ لگا دی گئی، جبکہ دو ٹرک الٹ کر نقصان پہنچایا گیا۔ تشدد کے دوران ایک شہری کی کار کو بھی مبینہ طور پر جلا دیا گیا۔


سیکورٹی فورسز، منی پور پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کوششوں سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا اور منگل اور بدھ کی درمیانی شب تک پورے ہجوم کو منتشر کر دیا گیا۔ دفاعی ترجمان نے کہا کہ سیکورٹی فورسز امن برقرار رکھنے، تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور قانون کی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز امن و امان اور استحکام برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مسلسل تحمل اور پیشہ ورانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔