گلوبل ٹریڈ میں ہندوستان کی بڑی چھلانگ، برطانیہ کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کا آج سے آغاز، ختم ہوئی ٹیکس کی پابندیاں
برطانیہ کے بازاروں میں ڈیوٹی فری رسائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ یہ نہ صرف ہندوستانی معیشت کے لیے بوسٹر ڈوز ہے، بلکہ عالمی تجارت میں ہندوستان کے بڑھتے اثر و رسوخ کی نمائندگی کرتا ہے۔

ہندوستان اور برطانیہ کے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات میں آج کا دن تاریخی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے ہو رہی بات چیت کے بعد آخر کار ’آزادانہ تجارتی معاہدہ‘ (ایف ٹی اے) آج سے مکمل طور پر موثر ہو گیا ہے۔ معاہدے کے نفاذ سے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے برطانیہ کے بازاروں میں ڈیوٹی فری رسائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ یہ نا صرف ہندوستانی معیشت کے لیے بوسٹر ڈوز ہے، بلکہ عالمی تجارت میں ہندوستان کے بڑھتے اثر و رسوخ کی نمائندگی کرتا ہے۔ آئیے اس معاہدے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’کمپری ہینسیو اکنامک اینڈ ٹریڈ ایگریمنٹ‘ (سی ای ٹی اے) کے تحت ہندوستان کی 99 فیصد ٹیرف لائنز پر برطانیہ میں ڈیوٹی فری رسائی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل، لیدر اور فٹ ویئر سے لے کر میرین پروڈکٹس، انجینئرنگ گڈز، کیمیکلز اور پروسیسڈ فوڈ جیسے سیکٹرز کو فائدہ ہوگا۔ یہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے سب سے اہم ٹریڈ ایگریمنٹس میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے برطانیہ کی تجارت کو دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کنزیومر مارکیٹ میں زیادہ رسائی حاصل ہوگی۔
اس کے باوجود ٹریڈ ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ صرف کم ٹیرف سے زیادہ ایکسپورٹ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اگر ہندوستانی کمپنیاں مارکیٹ میں حاصل ہونے والی رسائی کو مسلسل ایکسپورٹ گروتھ میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، تو انہیں اب سخت کوالٹی اسٹینڈرڈز، سرٹیفیکیشن کی ضروریات اور نان ٹیرف بیریئرز سے نمٹنا ہوگا۔ ٹی او آئی کی رپورٹ کے مطابق ’گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کے فاؤنڈر اجے شریواستو نے کہا کہ ’’معاہدے سے دروازہ کھلا ہے، اب ہندوستان کو اس رسائی کو ایکسپورٹ میں تبدیل کرنا ہوگا۔ 30 چیپٹر والے اس معاہدے میں ٹیرف میں نرمی کے علاوہ، ڈیجیٹل تجارت، سرکاری خریداری، انوویشن، چھوٹی تجارت، اسسٹینیبلٹی اور سپلائی چین کی مضبوطی جیسے مسائل بھی شامل ہیں، جو ہندوستان کی ٹریڈ بات چیت کی بڑھتی امیدوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہندوستانی ایکسپوٹرس کے لیے سب سے بڑا فائدہ ان لیبر- انسیٹو پر برطانیہ کے ٹیرف کا ختم ہونا ہے۔ جہاں ہندوستان کو پہلے ہی مینوفیکچرنگ میں فائدہ ہے۔ گارمنٹس، ٹیکسٹائل، لیدر کے سامان، جوتے، سمندری غذا، پروسیسڈ فوڈ اور بعض زرعی مصنوعات کو سب سے زیادہ فائدہ ہونے کی امید ہے۔
’جی ٹی آر آئی‘ کے مطابق برطانیہ نے 2025 میں 928.9 بلین ڈالر کا سامنان در آمد کیا۔ لیکن اس میں ہندوستان کی حصہ داری صرف 15.2 بلین ڈالر یا 1.6 فیصد تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ہندوستانی کمپنیاں اپنی کمپیٹیٹو نیس (مسابقتی صلاحیت) بہتر کر سکیں، تو توسیع کی کافی گنجائش ہے۔ پروسیسڈ فوڈ جس کا ابھی تک پورہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ برطانیہ نے گزشتہ سال 33.4 بلین ڈالر پروسیسڈ فوڈ در آمد کیا۔ جب کہ ہندوستان کی برآمدگی 354 ملین ڈالر تھا۔ جس سے مارکیٹ میں اس کی حصہ داری صرف 1.1 فیصد رہی ہے۔ اس ایگریمنٹ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنانشل سروسز، ہیلتھ کیئر اور ایجوکیشن جیسے سیکٹرز میں ہندوستانی سروس پرووائیڈرز کو ریگولیٹری یقینی طور پر ملنے کی بھی امید ہے۔ بزنس وزیٹرز اور ایک ہی کمپنی کے اندر ٹرانسفر ہونے والے ملازمین کو زیادہ متوقع موبیلٹی پالیسیوں سے فائدہ ہونے کی امید ہے، جبکہ ہندوستانی شیف، یوگا انسٹرکٹرز اور کلاسیکل میوزیشنز جیسے پروفیشنلز کو بھی بہتر رسائی ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ ساتھ آنے والا ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن برطانیہ میں عارضی کام پر جانے والے ہندوستانی پروفیشنلز کے لیے سوشل سیکورٹی رعایت کو 3 سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دیتا ہے۔ اس سے ڈبل سوشل سکیورٹی پیمنٹ کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور ملازمین و ایمپلائرز، دونوں کے لیے تخمینہ کم ہو جاتا ہے۔ برطانوی برآمد کنندگان کے لیے سب سے نمایاں تبدیلیوں میں سے ایک ہندوستان کی طرف سے برطانیہ کی بنی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
