
بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان اب تک چیزیں ’اَن سلجھی‘ نظر آ رہی ہیں۔ ایک طرف بی جے پی لیڈران یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے اور شیو سینا کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہے، وہیں شیو سینا لیڈران کی تلخ بیانی جاری ہے۔ شیو سینا کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان سنجے راؤت تو ’سیاسی کھیل‘ بالکل فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ آج انھوں نے ایک اور بیان دیا ہے جس سے بی جے پی کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ سنجے راؤت نے واضح لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ’’بی جے پی سے فی الحال حکومت سازی پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
Published: 01 Nov 2019, 11:49 AM IST
میڈیا سے بات چیت کے دوران سنجے راؤت نے صاف کر دیا ہے کہ ان کی پارٹی بی جے پی کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام چاہتی ہے کہ وزیر اعلیٰ شیو سینا سے ہو، اور بی جے پی کو عوام کی بات ماننی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر شیو سینا فیصلہ کرتی ہے، تو انھیں (بی جے پی) ریاست میں مستحکم حکومت بنانے کے لیے ضروری نمبر مل جائے گا۔ لوگوں نے 50-50 فارمولے کی بنیاد پر حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ عوام چاہتی ہے کہ شیوسینا سے وزیر اعلیٰ ہو۔‘‘
Published: 01 Nov 2019, 11:49 AM IST
خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ فی الحال بی جے پی سے حکومت بنانے کو لے کر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ شیوسینا کے رخ سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ وہ اپنی بات کو لے کر بضد ہے اور 50-50 سے کم پر ماننے والی نہیں۔ چونکہ سنجے راؤت نے جمعرات کو این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات بھی کی ہے، اس لیے بی جے پی میں ان کے بیانات کو لے کر سناٹا پسرا ہوا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے سنجے کے بیان پر اب تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
Published: 01 Nov 2019, 11:49 AM IST
واضح رہے کہ 30 اکتوبر کو مہاراشٹر بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے کے بعد دیویندر فڑنویس نے ایک بیان ضرور دیا تھا جس میں انتہائی سنبھل کر میڈیا سے انھوں نے کہا تھا کہ ’’شیو سینا افواہوں پر دھیان نہ دے اور بی جے پی کے ساتھ آ کر حکومت بنائے۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ جو بھی شیو سینا کا مطالبہ ہے اس پر بات چیت ہوگی اور مسئلہ کا حل نکالا جائے گا۔
Published: 01 Nov 2019, 11:49 AM IST
قابل غور ہے کہ شیوسینا لگاتار یہ بات کہہ رہی ہے کہ لوک سبھا انتخاب کے دوران 50-50 فارمولے پر بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ سے بات ہوئی تھی اور اسی کے پیش نظر شیو سینا-بی جے پی اتحاد قائم ہوا تھا۔ شیو سینا کے مطابق اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ مہاراشٹر الیکشن کے نتائج کے بعد اگر اتحاد کی حکومت بنتی ہے تو اس میں شیو سینا کی 50-50 کی حصے داری ہوگی۔ یعنی کابینہ میں شیو سینا کے 50 فیصد وزیر ہوں گے۔ خبروں کے مطابق اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ عہدہ پر ڈھائی ڈھائی سال کے لیے اتفاق قائم ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیو سینا آج وزیر اعلیٰ عہدہ اور نصف وزارتوں کے لیے بضد نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی لیڈروں کے بیانات سے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ شیو سینا سے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو رہی ہے۔
Published: 01 Nov 2019, 11:49 AM IST
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 01 Nov 2019, 11:49 AM IST