ووٹر لسٹ / تصویر سوشل میڈیا
ملک کے مختلف صوبوں میں جاری ووٹر لسٹ رویژن (ایس آئی آر) شروع سے ہی سرخیوں میں رہا ہے۔ کہیں ایس آئی آر کے ذریعہ فرضی نام شامل کئے جانے کی باتیں سنی گئیں تو کہیں ہزاروں لوگوں کے نام حذف کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا حد تو تب ہوگئی جب گاؤں کے سربراہ کہے جانے والے پردھان کا بھی نام ایس آئی آرمسودہ لسٹ میں شامل نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ ایس آئی کے دوران کام کے دباؤ کی وجہ سے درجنوں اہلکاروں کی خودکشی نے اس پورے عمل کو ہی متنازع بنا دیا تھا۔ اس دوران اترپردیش کے مظفرنگر ضلع میں ایس آئی آر کی وجہ سے ایک شخص کے ’زندہ‘ ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
Published: undefined
حال ہی میں مظفر نگر ضلع میں اس وقت پورا مال جذباتی ہوگیا جب قریب 3 دہائی پہلے مردہ مان لیا گیا ایک شخص اچانک واپس آگیا۔ ’آج تک‘ کے مطابق مظفر نگر ضلع کے کھتولی قصبے کے محلہ بالارام میں رہنے والے شریف 28 سال بعد اپنے رشتہ داروں کے پاس لوٹے جس سے رشتہ داراور مقامی لوگ جذباتی ہوگئے۔ انہیں اپنے گھر اور گاؤں کی یاد کیوں آئی، اس کے پیچھے وجہ بھی بہت دلچسپ ہے۔
Published: undefined
شریف کی پہلی بیوی کا 1997 میں انتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری شادی کرلی اور اپنی دوسری بیوی کے ساتھ مغربی بنگال چلے گئے۔ کچھ عرصہ تک خاندان لینڈ لائن فون کے ذریعے رابطے میں رہا لیکن رفتہ رفتہ تمام رابطے منقطع ہوگئے۔ اہل خانہ نے مغربی بنگال میں ان کے بتائے گئے پتے پر ڈھونڈنے کی کئی کوششیں کیں لیکن کوئی معلومات نہیں مل سکی۔ بالآخر اہل خانہ نے مان لیا کہ شریف کا انتقال ہوگیا ہے۔
Published: undefined
اسی دوران مغربی بنگال میں جاری ایس آئی آرعمل کے لیے ضروری دستاویزات کی ضرورت پڑنے پر شریف کو اپنا آبائی وطن یاد آیا اور دو دن قبل وہ اپنے گاؤں کھتولی پہنچے۔ وہ 28 سال میں پہلی بار اپنے اصل گھر واپس آئے ہیں۔ ان کی اچانک آمد سے خاندان، پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں خوشی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ہوئی۔ اس موقع پر شریف کو یہ بھی معلوم ہوا کہ گزشتہ 28 سالوں میں ان کے خاندان کے کئی افراد انتقال کر چکے ہیں۔
Published: undefined
شریف کے بھتیجے محمد اسلم نے بتایا کہ خاندان نے تقریباً 15 سے 20 سالوں تک مغربی بنگال کے مختلف مقامات پر جس میں کھڑگ پور اور آسنسول بھی شامل تھے، ان کی تلاش کی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ جب خبر آئی کہ شریف واپس آگئے ہیں تو خاندان کو شروع میں یقین کرنا مشکل ہوا۔ شریف گھر واپس آئے تو بھیڑ جمع ہوگئی، لوگ ان سے ملنے آئے اور دور دراز کے رشتہ داروں نے ان سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کی۔
Published: undefined
دریں اثنا شریف نے بتایا کہ 1997 میں اپنی دوسری شادی کے دوران محدود وسائل اور مواصلاتی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اس لیے واپس آئے کہ سرکاری دستاویزات ضروری ہیں، جس کے بعد وہ واپس چلے جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ضروری دستاویزات حاصل کرنے اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے بعد شریف اب مغربی بنگال واپس چلے گئے ہیں جہاں وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ تقریباً 3 دہائیوں سے زندگی گزاررہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined